ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 381 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 381

381 ہم لوگ ڈولتے رہے۔ایک لرزہ طاری ہو گیا کہ کیا ہونے ولا ہے جس وقت آگ وہاں پہنچی ہے جہاں سے ان کا مکان شروع ہوتا تھا تو ایسی موسلادھار بارش شروع ہوئی۔اسقدر تیز کہ آگ کو اس اگلے ساتھ کے گھر تک پہنچنے کی توفیق نہیں ملی۔ساری آگ ٹھنڈی پڑ گئی۔پس خدا تعالٰی ظاہری طور پر بھی ان باتوں کو پورا کر دکھایا کرتا ہے۔یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم ہر جگہ معنوی سہارے تلاش کریں۔وہ صاحب مقدرت ہے۔جب چاہے جس طرح چاہے وہ اپنی کائنات کو جو اس کی غلام ہے جیسا حکم دے وہ اس کے تابع ہے اور ویسا ہی کرتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے اس الہام کے یہ معنی تو بہر حال ثابت ہوئے کہ ظاہری آگ بھی خدا تعالٰی کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے بچے غلاموں پر غلبہ نہیں پا سکے گی۔پس اس وقت جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام نے خدا کا یہ معجزہ دیکھا تو وہاں سے ہجرت کی اور ہجرت کرتے ہوئے یہ کہا۔وقال إني ذاهب إلى ربي سيهدين الصافات : (۱۰۰) میں تو اپنے رب کی طرف چلا ہوں۔سیدین اور وہ میری ہدایت کرے گا۔میری راہنمائی فرمائے گا۔ربِّ هَبْ لِي مِن الصَّلِحِينَ (الصافات : ۱۰۱) اے میرے رب مجھے صالح اولاد عطا فرما۔اب ان دو باتوں کا جوڑ کیا ہے۔دیکھنے والی یہ بات ہے آگ سے ہلاکت سے بیچ کر باہر نکل رہے ہیں ہجرت فرما رہے ہیں اور کہتے ہیں مجھے صالح اولاد عطا فرما۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم اس وقت تک اس قوم سے رخصت نہیں ہوئے جس وقت تک کامل طور پر یقین نہیں ہو گیا کہ کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا۔جو ظلم انہوں نے کرنا تھا وہ انتہاء تک پہنچا دیا اور جب دیکھا کہ ان کے آباء و اجداد میں سے سب تباہ ہونے والے ہیں کچھ بھی نہیں۔تو اکیلے نکلے اور اس وقت خدا سے عرض کی کہ اب میری نسل کو تو چلا۔میں تو تیرے ان بندوں میں سے ہوں جو عاجز ہیں۔تیرے حضور کامل طور پر جھکنے والے سب کچھ تیرے سپرد کرنے والے۔پہلوں کی نسلیں اگر ہلاک ہو جائیں تو وہ ان کی ذمہ داری۔میں تو تیری خاطر اس قوم