ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 331

331 کہ جنکے آنے جانے کے ساتھ تجارت چلتی ہے اور انہوں نے صبر کا نمونہ دکھایا اور یہی کہا إنَّا لِلهِ وَإِنَّا لَيَرْجِعُونَ اور اس کے نتیجہ میں ایک ایک کی جگہ دس دس دکائیں نہیں۔جہاں چند دوکانیں احمدیوں کی جلائی گئی تھیں وہاں بازار احمدیوں کے ہو گئے۔ایک مکان تھا تو پھر مختلف بچوں کے لئے الگ الگ مکان بنانے کی توفیق ملی۔پس یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس کے پیچھے جماعت احمدیہ کی سو سالہ تاریخ آج کے زمانہ میں گواہ کھڑی ہے اور اس سے پہلے امت محمدیہ کی تمام تاریخ مختلف ممالک میں اس بات پر گواہ ہے کہ یہ ایک بہت ہی مئوثر دعا ہے۔پھر بعجز سکھاتی ہے اور بظاہر کچھ بھی نہ ملے تو ایک عظیم الشان چیز ملنے کی بشارت دیتی ہے۔وہ لوگ جو عجز کے ساتھ دنیا سے تعلق رکھنے کی بجائے خدا سے تعلق رکھتے ہیں۔دنیا سے راضی ہونے کی بجائے خدا سے راضی رہتے ہیں ان کے لئے اس میں یہ خوشخبری ہے کہ تم خدا کی کھوئی ہوئی چیز خدا کو مل جاؤ گے۔سب سے بڑی دولت جو دنیا میں ممکن ہے اور سوچی جا سکتی ہے یا دنیا میں کیا دنیا و ما فیہا آخرت ہر لحاظ سے انسان کے اور اک میں جو چیز سب سے زیادہ قیمتی آسکتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔تو فرمایا تم تھوڑا سا کھونے کے نتیجہ میں کیوں غم کر رہے ہو۔تم اپنے رب کو پالو گے۔اور یہ جو مضمون ہے اس میں مومنوں کے لئے خصوصیت سے اس لئے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالی کی طرف اگرچہ ہر چیز لوٹے گی لیکن قرآن کریم فرق کر کے دکھاتا ہے۔قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وہ لوگ جو خدا کے بندے ہیں جن کی روح خدا کی طرف ہمیشہ لوٹتی رہتی ہے۔جنکا تصور خدا کی طرف لورا رہتا ہے۔اصل رجوع ان کا ہوگا۔اور جو دنیا کے بندے ہیں وہ خدا کی طرف نہیں لوٹائے جائیں گے۔یہ مضمون قرآن کریم کی ایک الگ آیت میں واضح طور پر بیان فرما دیا گیا۔بظا ہر ان دو باتوں میں تضاد ہے۔بظاہر ایک آیت یہ کہتی ہے کہ ہر چیز کا ئنات کی بالآخر خدا کی طرف لوٹائی جائے گی اور قرآن کریم بعض دوسری جگہوں پر اس مضمون کو کھول کر بیان فرماتا ہے کہ بالآخر ساری کائنات کی صف لپیٹ دی جائے گی اور کچھ بھی نہیں رہے گا۔۔جو کچھ تھا وہ پھر عدم ہو جائے گا۔صرف خدا کی ذات باقی رہے گی۔تو زندگی ہو یا بے جان چیزیں ہر چیز اس کی طرف لوٹنے والی ہے۔دوسری جگہ فرمایا کہ خدا