ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 30
30 اور جانوروں کے متعلق ہم یہی سمجھتے ہیں کہ صرف ایک دو ایسے اشارے ہیں خوف کے یا حرص کے جو وہ اپنی چیخوں کے ذریعے یا بے منکم آوازوں کے ذریعے ایک دوسرے کو سمجھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر امر واقعہ یہ ہے کہ جب جانوروں کی زندگیوں پر تحقیق کی جائے اور ان کی آوازوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بہت کچھ اور بھی معلوم ہونے لگتا ہے۔آجکل کے زمانے میں سائنس دانوں نے اس علم کی طرف توجہ کی ہے معلوم کرنا شروع کیا ہے کہ پرندے جب آوازیں نکالتے ہیں تو کیا صرف خوف کی آواز ہی ہے یا کچھ اور بھی باتیں ہیں چنانچہ ان کو پتہ چلا کہ صرف خوف کی یا امید کی باتیں نہیں بلکہ اور بھی اشارے وہ اپنی آوازوں میں کرتے ہیں چونکہ ہمارے سننے کی جو WAVE LENGTHS ہیں یعنی آواز کی ارتعاش میں کتنی مرتبہ اور نچ نچ پیدا ہوتا ہے اس کو WAVE LENGTH کہتے ہیں یعنی ایک ارتعاش اور دوسرے ارتعاش کی پیک (PEAK) کے درمیان آپس میں کیا فاصلہ ہے۔بہرحال یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کی مجھے اردو نہیں آرہی تو میں WAVE LENGHT کے طور پر آپ کے سامنے یہ بیان کر رہا ہوں۔آواز کا ہمارے سننے کا خدا تعالیٰ نے ایک دائرہ مقرر فرما دیا ہے اس دائرے سے کم WAVE LENGTH کی آوازوں کو ہم نہیں سن سکتے اس دائرے سے آگے بڑھی ہوئی WAVELENGTH کی آوازوں کو ہم نہیں سن سکتے اور جانور اس سے بہت زیادہ سنتے ہیں اور بہت کم بھی سنتے ہیں۔اس لئے اول تو جو آوازیں ہمیں ان کی آتی ہیں ان سے کچھ زیادہ باتیں وہ کر رہے ہوتے ہیں جن کا ہمیں پتہ ہی نہیں۔اور مختلف جانوروں کے لئے مختلف سمت میں خدا تعالیٰ نے انسان پر برتری عطا کی ہوتی ہے۔بعض کم WAVELENGTH کی آوازیں سنتے ہیں بعض زیادہ کی آوازیں سنتے ہیں مگر جو کچھ آوازیں وہ نکالتے ہیں ان میں بہت کچھ مضامین بھی بیان ہو رہے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں جب بچپن میں ہم نے پہلی مرتبہ یہ پڑھا کہ حضرت سلیمان کو پرندوں کی اور جانوروں کی زبان سکھائی گئی تھی تو حیرت بھی ہوتی تھی اور ذہن زیادہ جنوں پریوں کی ان کہانیوں کی طرف منتقل ہو جایا کرتا تھا جن سے یہ معلوم ہو تا تھا کہ انسانوں کی طرح با قاعدہ باتیں کر کے یہ ایک دوسرے کو اپنا مضمون سمجھاتے ہیں لیکن بعد میں جب سائنس کی مدد