ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 292

292 تمہارے دکھوں کو دور فرمادے گا اور ہر تکلیف کو راحت میں تبدیل فرما دے گا۔حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ایک اور دعا جو اس کے بعد مذکور ہے حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا ہے وہ یہ ہے کہ وذا النون إذذهَبَ مُنَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن تَقْدِرُ عَلَيْهِ قَتَادَى في الظلمت أن لا إله إلا انت سبحنك الي كنتُ مِنَ الظَّلِمِينَ اور صاحب نون کی اس حالت کو یاد کرو إذ ذهَبَ مُغَاضِبًا جبکہ وہ بہت سخت خفا ہوتے ہوئے دل کے ساتھ جب اس کا دل بہت ناراض اور تنگی محسوس کر رہا تھا ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ کی طرف گیا نظن آن لن تقدر علیم اور اس نے یہ گمان کیا کہ گویا ہم اس پر غالب نہیں آئیں گے یا اس کے خلاف فیصلہ صادر نہیں کریں گئے۔تقدر علیم کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی کے خلاف فیصلہ کرنا اور ایک یہ مطلب بھی ہے کہ کسی پر غلبہ پا لینا تو دونوں مفہوم کچھ نہ کچھ اس صورتحال پر اطلاق پاتے ہیں قنادی فی الظلمت تب اس نے اندھیروں میں یہ دعا کی أن لا إله إلا انت سبحت الي كنت من اليمن اے میرے خدا تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے شبخنک تو بہت پاک ہے الي كُنتُ مِنَ الظَّلِمِينَ میں بہت ہی ظلم کرنے والوں میں سے تھا، میں اپنی خطاؤں کا اقرار کرتا ہوں اس لئے تو ہی ہے جو مجھے اس ظلم کی حالت سے نجات بخشے اس کے جواب میں خدا تعالیٰ " فرماتا ہے : فَاسْتَجَبْنَالَة وَنَيْنَهُ مِنَ الْغَةِ، وَكَذلِكَ نُفيِي الْمُؤْمِنِينَ ہم نے پھر اس کی اس دعا کو سن لیا اور شدید غم سے اس کو رہائی بخشی و گذرت نشی المُؤْمِنِينَ اور اسی طرح ہم مومنوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔حضرت یونس علیہ السلام کے حالات زندگی حضرت یونس کے متعلق بھی تاریخ میں اختلافات پائے جاتے ہیں اور ضرورت ہے