ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 291
291 جو تفاصیل ہیں وہ تو ہمیں قرآن کریم میں نہیں ملتیں لیکن جتنے بھی اشارے ملتے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو بہت ہی تکلیفیں پہنچیں اور جسمانی عوارض بھی بہت لاحق ہوئے اور یہاں تک کہ آپ کو اپنا ملک چھوڑ کر بھی جانا پڑا چنانچہ منجملہ تفصیل کے ساتھ تو ذکر نہیں مگر یہ ضرور ملتا ہے کہ کچھ نہ کچھ واقعات جیسا کہ بیان کئے گئے ہیں ویسے آپ کے ساتھ ضرور پیش آئے یہاں تک کہ سب نے آپ کو چھوڑ دیا۔ارحم الرحمین کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا میری تو یہ حالت پہنچ گئی کہ دنیا کے جتنے رحم کرنے والے ہو سکتے ہیں وہ تو منہ موڑ کر چلے گئے۔میری بیوئی نہ رہی ، میرے بچے نہ رہے، میرے شہر والے نہ رہے جو ایمان لائے تھے انہوں نے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی۔اب میں اکیلا اپنے وطن سے نکلتا ہوں تو مجھے بتا کہ میں کیا کروں ، لیکن ان سب باتوں کے باوجود میں مایوس نہیں تو ارحم الراحمین ہے۔جس پر کوئی اور رحم کرنے والا نہ ہو اس پر تو رحم فرماتا ہے۔اس دعا کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ما ستجبنا له نحفتا ما به من ضُر و اتينهُ اهْلَهُ وَ مِثْلَهُمْ کہ ہم نے اس درد ناک پکار کو سنا اور قبول کیا تحفنا ما به من ضم اور ان سب تکلیفوں کو کھول دیا اور تبدیل کر دیا جو اسے لاحق تھیں واقيله أهلَهُ وَمِثْلَهُمْ ہم نے اس کے اہل بھی اسے واپس لوٹا دیے اور اسے اس جیسے اور بھی بہت سے گھر عطا کئے جو اپنا سمجھتے ہوئے ان کے خاندان کی طرح ہی ہو گئے یعنی ان سے محبت کرنے والے ایسے خاندان عطا کئے جو اپنوں سے الگ شمار نہیں کئے جاسکتے تھے جس طرح بعض دفعہ انسانی تعلقات میں بعض خاندانوں میں اپنی محبت ہو جاتی ہے ایسا ملنا جلنا اور قرب کا تعلق ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی گھر کے افراد دکھائی دیتے ہیں پس مِثْلَهُمْ مَعَهُمْ میں یہ بھی خوشخبری دی گئی کہ ایک گھر تجھ سے چھٹا تھا، تجھے اور بھی بہت سے گھر ہم عطا کریں گے۔تخمة من عندنا یہ خالصتا " ہماری طرف سے رحمت کے طور پر ہوگا دو گرای يلعبونیت اور جو عبادت کرنے والے ہیں ان کے لئے یہ ہمیشہ کیلئے نصیحت ہوگی کہ جس قسم کے بھی اقلام در پیش ہوں مایوس نہیں ہونا چا ہیے اگر صبر کے ساتھ عبادت پر قائم رہتے ہوئے صرف خدا کی ہی طرف جھکو گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ