ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 288

288 میں سے تھے اور بہت ہی فیاض اور خدمت کرنے والے انسان تھے۔شیطان کو آپ پر حسد ہوا اور شیطان نے خدا تعالٰی سے بات کرتے ہوئے یہ کہا کہ ایوب جو تیرا بندہ ہے“ تو اس پر نازاں ہے کہ بڑی عبادت کرنے والا اور ان سب نعمتوں کے باوجود مجھے نہ بھلانے والا ہے، لیکن اسے آزمائش میں ڈال کر دیکھ پھر پتہ چلے گا چنانچہ اس کے اموال تباہ کر دے، پھر میں دیکھوں گا کہ وہ کیسے تیرا بندہ رہتا ہے۔اس پر خدا تعالٰی نے اسے کہا کہ ہاں اموال پر تجھے تصرف دیا جاتا ہے اور حضرت ایوب کے تمام اموال تباہ ہو گئے۔پھر اس نے اولاد کا طعنہ دیا کہ اولاد تو اچھی ہے۔دنیا کے جانور اور دولتوں کی بعضوں کو پرواہ نہیں ہوتی اولاد کا صدمہ برداشت نہیں کر سکتے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد کو پہلے جلا وطن کروایا پھر مرنے دیا اور اولاد ضائع ہو گئی۔پھر شیطان نے کہا کہ اس کے بدن کے اوپر مجھے تصرف دیا جائے۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ اگر بدن کی آزمائش بھی چاہتے ہو تو یہ بھی کر کے دیکھ لوچنانچہ آپ کے بدن کو ایسی بیماری لگ گئی کہ بائبل کے بیان کے مطابق جسم میں ناسور ہو گئے اور نہایت ہی مکروہ قسم کی بیماری تھی جس سے لوگ بھی کراہت کر کے پناہ مانگتے تھے اور دوڑتے تھے اور جسم میں کیڑے پڑ گئے اور لوگوں نے آپ کو نکال کر بستی سے باہر کر دیا تب بھی حضرت ایوب صابر و شاکر رہے اور خدا کے ساتھ وفائیں کوئی کمی نہ آئی۔تب شیطان نے خدا سے کہا کہ بیوی تو ابھی تک ساتھ ہے اور وہ وفادار ہے، بیوی کی طرف سے بھی اس کو کچھ صدمہ پہنچے تو بیوی کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے شیطان کی حال میں آکر یا کہانی یوں بیان کی گئی ہے کہ شیطان نے خود ہی سوچا کہ جس طرح میں نے حوا کو گمراہ کیا تھا میں اس کی بیوی کو بھی گمراہ کروں گا کہ یہ بھی ساتھ نہ رہے پھر میں دیکھوں گا کہ اس کا صبر ٹوٹتا ہے کہ نہیں۔چنانچہ اس نے بیوی کو یہ کہا کہ یہ بچھڑا یا کوئی جانور میرے نام پر ذبح کرو تو تمہارا خاوند اچھا ہو جائے گا۔گویا شرک کی تعلیم دی اور بیوی اس پر اس حد تک آمادہ ہو گئی کہ اس نے حضرت ایوب سے اس کا ذکر کیا اور یہاں تک کہا کہ تم اب خدا کو چھوڑو۔کہاں تک صبر کرے گا۔اس سے موت مانگ اور اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کر۔حضرت ایوب اس پر ناراض ہوئے اور عہد کیا کہ اگر میں اچھا ہو جاؤں گا تو اس کو ۱۰۰ کوڑے