ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 209

209 رتے رہتے ہیں اور غور کرتے رہتے ہیں کہ خدا تعالٰی نے یہ کیا پیدا کیا ؟ اس میں کیا حکمتیں ہیں؟ اس کی تخلیق میں کیا لطائف پوشیدہ ہیں؟ یہ غور کرنے کے بعد ان کے دل سے بے ساختہ یہ دعا نکلتی۔ربِّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ نينا عذاب النار (آل عمران : (Y) کہ اے ہمارے رب !جو کچھ بھی تو نے پیدا کیا ہے حکمتوں سے بھرا ہوا ہے۔باطل نہیں ہے۔بے مقصد نہیں ہے۔کیونکہ اتنا اعلیٰ نظام جو ایسا مربوط ہو اور ایسا گہری حکمتوں پر مبنی ہو وہ عبث نہیں ہو سکتا بے کار نہیں بنایا جا سکتا۔ضرور اس کا کوئی مقصد ہے اور اگر ہم اس مقصد کو پورا کرنے والے نہ بنیں تو جس طرح بے کار چیزیں آگ میں پھینک دی جاتی ہیں ہمیں ڈر ہے کہ ہم بھی آگ کا ایندھن نہ بن جائیں تو ان سب باتوں پر مشتمل یہ دعا ہے اگر چہ الفاظ تھوڑے ہیں۔عرض کرتے ہیں۔ربَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تیری شان بلند ہے تو سبحان ہے، تو پاک ہے ہمیں آگ کے عذاب سے آگ سے بچانے کی دعا کا مطلب پس سوال یہ ہے کہ اچانک زمین و آسمان پر غور کرنے کے بعد آگ کے عذاب کا کیا تو کر چل پڑا۔وہ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ وہ ذکر اس مضمون میں مخفی ہے۔اس کے اندر یہ ذکر موجود ہے اگرچہ ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا۔مراد یہی ہے کہ جب مضمون پا جاتے ہیں کہ اتنی عظیم الشان کائنات جو اتنی لطافتوں اور حکمتوں کے ساتھ بنائی گئی ہے اور ارب ہا ارب سال جس کی تخلیق کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں لگے یہ بے معنی اور بیکار نہیں ہو سکتی۔ایک انسان ایک گلی ڈنڈا بھی بنائے تو اس کا ایک مقصد ہوتا ہے۔بچے کوئی معمولی سا کھلونا بھی گھڑ لیں یا مٹی سے بنالیں تو اس کا بھی ایک مقصد ہوا کرتا ہے۔جب وہ مقصد پورا نہ ہو تو پھر ا سے یا ردی میں پھینک دیا جاتا ہے یا آگ میں جلا دیا جاتا ہے۔ہر پرزہ جس مقصد کے لئے بنایا جاتا ہے اس مقصد کو جب وہ پورا کرنا چھوڑ دے تو جنگ (JUK) میں چلا جاتا ہے۔پرانی کاریں آپ نے دیکھی ہونگی کہ وہ ایسی جگہوں پر بھجوا دی جاتی ہیں جہاں بڑی بڑی مشینیں ان کو پڑ مٹر