ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 168

168 کرنے کی اہمیت نہیں پاتے۔پس اگر ہم ہر نماز میں دعا کرتے ہوئے یہ سوچا کریں کہ دعا ہم یہ کر رہے ہیں اور کام کون سے کر رہے ہیں؟ دعاؤں کا رستہ اور ہے اور ہمارا چلنے کا رستہ اور ہے؟ تو اسی وقت انسان کے دل پر لرزہ طاری ہو جائے گا۔عام انسان سے اگر کچھ مانگے اور دل میں کوئی اور بات ہو تو یہ بھی منافقت ہے اور ایک مکروہ بات ہے مگر خدا سے کچھ اور مانگے اور کچھ اور کرنے کے ارادے ہوں تو یہ ایک بہت ہی بڑا خوف کا مقام ہے۔ہم میں سے کتنے ہیں جو عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور والدین سے اور اقرباء سے اور یتیموں اور مسکینوں سے حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔بہت سی ایسی شکائیتیں روز مرہ مجھ تک پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض مرد ہیں جو اپنے گھر میں بھی اپنے بیوی بچوں سے حسن سلوک سے پیش نہیں آتے ان سے کرخت رویہ ہے۔ان سے ظلم و ستم کا سلوک ہے ان سے کنجوسیاں کرتے ہیں ان کو مصیبت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ایسی بیویاں ہیں جو بے چاری روتی پیٹتی مجھے خط لکھتی ہیں کہ ہمیں تو پیسے کا منہ نہیں دکھاتے۔گھر میں کچھ ڈال دیا تو ڈال دیا اور وہ بھی ایسا کہ ایک ایک چیز کا حساب رکھتے ہیں۔زندگی اجیرن ہے۔بچوں سے حسن سلوک نہیں ہے۔بچوں کو اس طرح پھینکا ہوا ہے جس طرح وہ بے جان چیزیں ہیں۔ان کو حس ہی کوئی نہیں۔ان باتوں میں مبالغہ بھی ہو گا لیکن جو لوگ دنیا کے معاشروں سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہر معاشرے میں اس قسم کے ظلم موجود ہیں۔ہو سکتا ہے وہ لکھنے والی غلط لکھ رہی ہو لیکن اور بہت سی ایسی ہیں جو نہ لکھنے والیاں ہیں لیکن ان پر یہ حالات گزرتے ہیں۔پس کئی قسم کی مصیبتیں ہیں جو روز مرہ کی زندگی میں ہماری بد اخلاقیوں کے نتیجے میں انسانوں پر ڈالی جاتی ہیں اور انسانوں کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہیں۔مردوں کی طرف سے بھی عورتوں کی طرف سے بھی بہووس کی طرف سے بھی ، ساسوں کی طرف سے بھی باپوں کی طرف سے بھی اور بچوں کی طرف سے بھی تو دیکھیں یہ دعا جو ہمیں خدا نے سکھائی۔ان معنوں میں یہ دعا سکھائی کہ اپنے بندوں کا ذکر فرمایا اور کہا کہ انعام یافتہ راہ پر چلنے والے لوگ اس اس قسم کے ہوتے ہیں۔جب ہم کہتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں انعام یافتہ رستوں پر چلنے والوں میں سے بنادے تو دراصل یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ اے خدا!!