ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 165
165 تو انہیں پکڑلوں اور ان کی بدیوں کی سزا دوں اور اگر چاہوں تو ان کو معاف کردوں اور بہت ایسے ہیں جن کو میں معاف بھی کر دیتا ہوں تو پھر انسان اس بات سے سہار ا لیتا ہے کہ میثاق پر ہم دستخط تو کر بیٹھے ہیں لیکن اب اس میثاق کی شرائط پر پورا اترنے کے لئے خدا ہی سے مدد طلب کریں گے اور اگر ہم اس میثاق پر پورا اترنے والے جو اولین لوگ ہیں جو سابقون کا گروہ ہے ان جیسے نہ بھی بن سکتے ہوں تو ہم یہ التجائیں کریں گے کہ اے خدا! ان اونی لوگوں میں ہی شامل فرما دے جنہوں نے عمر بھر دیانت داری سے میثاق پر عمل نہیں کیا تو میثاق پر عمل کرنے کی تمنا تو رکھتے تھے۔کوئی خواہش تو ان کے دل میں تھی۔بے چینی تو ہوا کرتی تھی۔جب وہ گناہ کرتے تھے تو بے قرار ضرور ہو جایا کرتے تھے۔گناہوں کے بعد مطمئن نہیں رہتے تھے بلکہ تڑپ کر زندگی گزارتے تھے۔پس اے خدا! ہمیں ان لوگوں میں ہی شامل فرما دے اور اگر قافلے کے سر پر چلنے والوں میں شامل نہیں تو اس قافلے کے آخر پر اس کی دم میں گھٹتے ہوئے لوگوں میں ہی شامل فرما دے لیکن رستہ وہ ہو انعمت علوم کہ جن پر تو نے انعام کیا۔مغضوب کے رستے پر ہمیں نہ ڈالتا۔قرآنی بیان کے مطابق انعام پانے والوں کا راستہ پس اب میں آپ کو لکھے ہوئے مضمون میں قرآن کریم کے واقعات کو دعاؤں کی شکل میں ڈھال کر پیش کرتا ہوں۔قرآنی آیات میں یہ مضمون دعاؤں کی صورت میں ظاہر نہیں فرمایا گیا مگر قرآن سے واقعات لیکر اور قرآن کی نصیحتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اوامر اور نواہی کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں چند نمونے آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ جب ہم اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہتے ہیں تو وہ کون سے انعام یافتہ لوگ ہیں جن کے رستہ پر چلنے کی ہم دعا کرتے ہیں۔گویا ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں ان انعام یافتہ لوگوں کے رستے پر چلا جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ بھی تو نے ان کو عطا کیا ہے اسے تیری راہ میں خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر اتاری ہوئی تعلیم پر اور سب گزشتہ تعلیمات پر ایمان لاتے ہیں اور آئندہ ہونے