ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 108

108 اگر اس کو خدا سے تعلق ہو۔یہ پانی جو بخارات بن کر آسمان پر چلا جاتا ہے، اگر بجلی نہ ہوتی تو یہ کبھی پانی بن کر دوبارہ زمین پر واپس نہ آتا۔یہ عملی کے کڑکے ہیں جو پانی کے باریک ذرات کو مجتمع کر دیتے ہیں اور بھاری بنا دیتے ہیں اور پھر وہ پانی ودق" کی طرح نیچے گرنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ ویسا ہی ہے جیسے بجلی سے انسان مرجاتے ہیں۔اس لئے وہ مرتے ہیں کہ ان کے خون میں جو لٹکے ہوئے ذرات ہیں وہ بجلی کے گزرنے سے مجتمع ہو کر CLOTS بن جاتے ہیں اور تبھی بھلی لگے ہوئے انسان کا رنگ کالا ہو جاتا ہے کیونکہ وہ خون جم کر سیاہ ہو جاتا ہے تو پانی جمانے کے لئے بھی بھلی چاہیئے۔اور وہ باریک ذرے جو ہمیشہ ہوا میں معلق رہ جاتے ہیں یہ بجلی کے کڑکے ہی ہیں جو انہیں اکٹھا کرتے ہیں اور پھر وہ بھاری ہو کر زمین پر گرنا شروع ہو جاتے ہیں تو "رعد" کی پھر یہ تعریف ہے۔فرشتوں نے تو اپنے طور پر تعریف کی لیکن مضمون کی گہرائی میں نہیں اتر سکے۔"رعد" خود جانتی ہے کہ میں کیا چیز ہوں۔فرمایا : ويسبح بحمدہ عمل کا ہر کڑ کا اپنے رب کی حمد کر رہا ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ بھی فرشتوں کی طرح اچھے کاموں پر مامور ہے۔اور اس کے نتیجے میں بہت سے بنی نوع انسان کو فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔پھر اس مضمون پر آپ مزید غور کریں تو یہ معلوم کر کے آپ حیران ہوں گے کہ دنیا کی زرخیزی کا براہ راست بجلی سے تعلق ہے۔پس ایک سادہ لوح انسان کم علم انسان تعریف تو کرتا ہے لیکن اس تعریف میں ڈر زیادہ شامل ہوتا ہے۔بجلی کا رعب زیادہ شامل ہوتا ہے۔حقیقت کا علم اس کو نہیں ہوتا لیکن بجلی خود اپنی حقیقت کو ان معنوں میں جانتی ہے کہ جس طرح انسان خود اپنے نفس کو جانتا ہے، اسی طرح کا رخانہ قدرت بھی خود اپنے آپ کو جانتا ہے لیکن اس میں ایک اور بات داخل ہے کہ ہوا میں جو نائیٹروجن پائی جاتی ہے، یہ نائیٹروجن روئیدگی کے لئے بڑی ضروری ہے اور جتنے بھی کھیتوں میں ختلف قسم کے کیمیاء زرخیزی بڑھانے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ARTIFICIAL FERTILIZERE ہوں یا مختلف قسم کی گلنے سڑنے کے نتیجے میں پیدا