ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 43
43 پہنچنا یہ وہ مضمون ہے جس کا زندگی کے ہر لمحے سے تعلق ہے اور ہمارے گردو پیش یہ مضمون بنتا چلا جاتا ہے۔اگر ہم ہوش مندی کے ساتھ محسوس کریں کہ ہم کیسے رہ رہے ہیں۔اور اپنے ماحول کے اثرات کو خدا تعالٰی کی حمد کے ساتھ باندھنا سیکھ لیں۔پھر جب آپ نماز میں داخل ہوں گے تو وہ نماز کیفیتوں سے بھری ہوئی ہوگی۔اگر نماز سے باہر کچھ نہیں ہے تو نماز کے اندر بھی کچھ پیدا نہیں ہو گا۔اس لئے بعض لوگ جو یہ حیران ہوتے ہیں کہ ہم تو نماز میں داخل ہوئے تھے از تیں حاصل کرنے کے لئے ہمیں تو وہاں کوئی لذت نہیں ملی۔باہر کی دنیا میں لوٹے اور پھر لذتوں میں دوبارہ کھوئے گئے وہ بالکل ست کہتے ہیں کیونکہ باہر کی لذتوں کا خدا سے تعلق نہیں تھا اور اندر نماز خالی پڑی تھی۔اس لئے خالی ویرانے سے گھبرا کر وہ ان لذتوں کی طرف لوٹتے ہیں جن کا خدا کی ذات سے تعلق نہیں یعنی تعلق ہے تو سہی مگر وہ سمجھتے نہیں۔رشتے تھے تو سہی مگر وہ باندھے نہیں گئے۔اس لئے وہ اس مادی دنیا سے لذت پانے کی اہمیت رکھتے ہیں لیکن روحانی دنیا سے لذت پانے کی اہمیت نہیں رکھتے۔پس اپنی سوچ کو ا نکیحت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ سوچ کے بغیر دل میں جذبات پیدا نہیں ہوا کرتے۔بعض لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ قلبی کیفیت اور چیز ہے اور دماغ اور چیز ہے۔حقیقت میں ایک دوسرے سے الگ ان کا وجود نہیں ہے۔قرآن کریم نے سوچوں کے آخری مرکز کے طور پر فواد کا یعنی دل کا ذکر فرمایا ہے اور دلوں کو ہی اندھا قرار دیا اور دلوں ہی کو دیکھنے والا بیان کیا جس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ دماغ کی آخری حقیقت بھی دل پر منتج ہوتی ہے۔اور آخری صورت میں چونکہ سیمیتیں بن جاتی ہیں اور کیفیتوں کا مرکز دل ہے اس لئے قرآن کریم بھی دماغ کی بجائے دل کا ذکر کرتا ہے۔پس اپنی سوچ کو بیدار کریں تو آپ کے دل میں عرفان کی لہریں دوڑنے لگیں گی۔اور عرفان کی بریں ہی ہیں جو وہ کیفیت پیدا کرتی ہیں جس سے نماز میں لذت پیدا ہوتی اور اللہ تعالیٰ سے محبت اور پیار بڑھتے رہتے ہیں۔سورۂ فاتحہ میں اپنی توفیق کے رنگ بھریں اب حواس خمسہ کا میں نے ذکر کیا ہے اس سے پہلے میں پچھلے خطبے میں ڈیوڈ ایٹن