ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 421
421 i کوشش کریں جن کی وہ دعائیں ہیں۔حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام نے ہے گریه و زاری کے ساتھ پیغام پہنچانے میں حد کر دی تھی۔کوئی ایک معمولی سایت بھی باقی نہ چھوڑا جس کے ذریعے آپ قوم تک نجات کا پیغام پہنچا سکتے تھے اور آپ نے نہ پہنچایا ہو۔اس کا ذکر بعد میں ایک دعا میں آئے گا۔سروست میں آپ کو اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ کشتی نوح کا مطالعہ کیا کریں اور آج کا نوح وہی نوح ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کی غلامی میں اس زمانے کو عطا ہوا ہے۔آج کے نوح کی کشتی وہ کشتی ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی تعلیمات میں ملتا ہے۔پس اس کشتی میں بیٹھنے کی کوشش کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی غفلتوں کی بخشش مانگتے رہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہمارا قدم اس طرف بڑھتا رہا تو خواہ ہم اس تک پہنچ سکیں یا نہ پہنچ سکیں خدا کی مغفرت ہمیں اپنی جھولی میں اٹھا لے گی اور خود اس کشتی تک پہنچا دے گی۔قرآن کریم میں ایک اور دعا کا ذکر ہے جس کا تعلق مومنوں کے باہمی تعلقات سے ہے۔انصار کی تعریف بیان فرمائی گئی کہ وہ کیسے اچھے لوگ تھے۔کس طرح انہوں نے اپنے گھر مہاجرین کے لئے کھول دیئے اور اس کے بعد مومنوں کی ایک دعا یہ سکھائی گئی۔والذين جاء ومِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ولإخوانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالايْمَانِ (الحشر : ( کہ وہ لوگ جو مہاجرین اور انصار کے بعد آئے وہ ان کے ذکر خیر سے متاثر ہونے کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے۔والَّذِينَ جَارُ وَمِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلا عُوَانِنَا کہ اے ہمارے رب ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے۔الَّذِيْنَ سَبَقُونَا بِالايْمَانِ وہ لوگ جو ایمان میں ہم سے ولا تجعل في قُلُوبِنَا غِلَّا لِلَّذِينَ آمَنُوا اور ہمارے سبقت لے گئے۔دل میں کسی مومن کے لئے کبھی اور نفرت نہ پیدا ہونے دے۔رَبَّنَا انَّكَ وَاوْفُ رحيم (الحشر : (1) اے ہمارے رب تو تو بہت ہی مہربان اور بہت ہی زحم