ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 418
418 ہلاکت اور جیسا کہ ظاہر ہو رہا ہے اس زمانہ میں یہ مضمون لفظاً لفظاً ظاہری طور پر نہیں دہرایا جائے گا لیکن معنوی طور پر دہرایا جائے گا۔پس آسمان سے بارش کا برینا اور زمین کا پانی اگلتا یہ دو معنی اس طرح آج کے زمانے پر اطلاق پاتے ہیں کہ روحانی ہلاکت ہے جو آسمان سے انسان کو کاٹ رہی ہے اور دنیاوی ہلاکت ہے جو طرح طرح کے عذابوں کے ذریعے جو دنیا کی بدکاریوں کے نتیجہ میں نازل ہو رہے ہیں۔انسان کے جسمانی خاتمے کا بھی سامان پیدا کیا جا رہا ہے۔پین دونوں طرح کی ہلاکتیں دنیا کو در پیش ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے جو تعلیم کشتی نوح میں دی ہے اگرچہ اس پر سو فیصد عمل کرنا بہت مشکل کام ہے اور شاذ ہی کوئی ایسا شخص ہو جو یہ کہہ سکے کہ میں نے اس ساری تعلیم کو اچھی طرح سمجھ لیا اور میں کامل یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں اس پر عمل پیرا ہوں۔لیکن اس تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنا ہی درحقیقت نجات کا موجب ہے۔بعض احمدی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم جب کشتی نوح کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو اس کشتی میں نہیں پاتے۔ہم کیا کریں۔ہمیں تو اس کتاب کے مطالعہ سے خوف آتا ہے کیونکہ بعض ایسی ایسی باریک باتیں اس میں بیان فرمائی گئی ہیں کہ اگر تم ایسا کرو گے تب بھی میری جماعت میں سے نہیں۔اگر تم ویسا کرو گے تب بھی میری جماعت میں سے نہیں۔تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں امن کے پیغام کی بجائے ہمارے دل سے ایک خوف کی آواز اٹھتی ہے اور ہمیں ڈراتی ہے کہ تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو اس کشتی میں سوار ہیں۔ہے کہ ایسے خیالات صرف ایک دو کے دل میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ ہر وہ شخص جو ضمیر کی آواز پر کان دھرتا ہے، اس کے دل میں ایسے ہی خیالات پیدا ہوں گے۔میں اپنے تجربے سے بھی اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ کتاب پڑھتے ہوئے بعض وقعہ انسان کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور انسان یہ سمجھتا ہے کہ ابھی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کا اہل نہیں ہوا۔لیکن دوسری طرف ایک اور پہلو بھی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر