ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 361

361 ملک کی اکثریت کو اس خدا کی پرستش کا حق نہ ہو تا جس کو وہ خدا سمجھ رہے ہیں تو حضرت سلیمان کا انصاف تھا جو یہودیوں کو چبھتا تھا اور تکلیف دیتا تھا۔حضرت سلیمان وہ نبی ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کے تصور کو یہود تک محدود نہیں رہنے دیا اور تمام بنی نوع انسان کے لئے خدا کے تصور کو عام کر کے پیش کیا جس طرح کہ ہم سورہ فاتحہ میں الحمد لله رب العلمین پڑھتے ہیں۔اگر آپ سلاطین نمبرا پاپ دار کا مطالعہ کریں (جس کو انگریزی میں 1-Kings کہا جاتا ہے یعنی سلاطین) تو آپ کو معلوم ہو گا کہ حضرت سلیمان نے جب ہیکل سلیمانی تعمیر فرمایا اور اس کی تکمیل کی آخری تقریبات ہو رہی تھیں اور جشن منایا جا رہا تھا تو اس وقت آپ نے ایک عظیم الشان تقریر ہیکل سلیمانی کے مقاصد کے اوپر کی اور وہ تقریر اپنے مضمون کے لحاظ سے اس سے ملتی جلتی ہے جو خانہ کعبہ کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تقریر یعنی ان کی دعائیں بہت جامع مانع ہیں اور اس سلسلے میں آپ کے ملفوظات بہت جامع مانع ہیں لیکن حضرت سلیمان کی اس تقریر میں اس کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔یہود کے ایک نبی کے لئے کیسی عجیب بات ہے کہ وہ وہاں اعلان کر رہے ہیں کہ اے خدا! یہ ہیکل سلیمانی صرف یہود کے لئے محدود نہ رہے۔اے خدا! اس ہیکل میں جو دعائیں مانگی جائیں وہ اس صورت میں بھی قبول فرما کہ یہود وہ دعائیں مانگ رہے ہوں اسرائیلی وہ دعائیں مانگ رہے ہوں اور اس صورت میں بھی قبول فرما کہ دنیا کے دور کے کناروں سے آنے والے وہ لوگ جن کا ہمارے مذہب سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے وہ بھی یہاں اگر دعائیں مانگیں تو تو ان کو بھی قبول فرمائے۔حضرت سلیمان یہ کہتے ہیں کہ وہ خدا جو اسرائیل کا خدا ہے وہی کل عالم کا خدا ہے گویا وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہی خدا ہے جو صرف اس عالم کا نہیں بلکہ تمام جہانوں کا رب ہے۔دیکھیں سورۂ فاتحہ کے مضمون کا ایک حصہ حضرت سلیمان کو بھی عطا ہوا۔الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْخَمِينَ کا گویا یہ ترجمہ ہے۔کہتے ہیں تمام جہانوں کا وہ رب ہے۔وہ یہود کے لئے کس طرح محدود ہو جائے گا۔پس وہ خدا سے دعائیں کرتے چلے جا