ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 332

332 - کے وہ بندے جو متکبر ہیں، جو دنیا میں کھوئے جاتے ہیں انکا رجوع نہیں ہو گا۔وہ خدا کی طرف نہیں لوٹائے جائیں گے۔ان دو باتوں میں تضاد نہیں ہے۔معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کو پائیں گے نہیں۔اندھے لوٹائے جائیں گے۔لوٹیں گے مگر دیکھیں گے کچھ نہیں۔ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔پس یہاں ان لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جو کچھ کھوتے ہیں اور صبر کرتے ہیں۔اور دل کو تسلی دیتے ہیں کہ سب کچھ خدا کا تھا۔اس کی طرف چلا گیا تو کیا ہے۔ہم نے بھی تو اسی کی طرف جاتا ہے۔ان کے لئے خوش خبری یہ بن جاتی ہے کہ تم نے کچھ کھویا ہے اس سے بہت زیادہ پالو گے۔اور مخلوق کھوئی ہے تو خالق کو پالو گے۔اس لئے اس دعا کی گہرائی میں اتر کر اس کے سارے پہلوؤں پر غور کر کے خود بھی اس دعا سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی شروع ہی سے یہ دعا سکھانی چاہئیے۔یہ سورۃ البقرۃ آیت ۱۵۷ ہے۔وقف نو کی سکیم کی بنیادی دعا اس کے بعد ایک دعا آل عمران کی رہ گئی تھی۔یہ آیات ۳۶ تا ۳۸ے ہیں۔اس میں یہ ذکر ہے کہ اذ قالَتِ امْرَآتُ عِمْر رَ اللّهِ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرِّرًا فَتَقَبَّلُ مني إنك انت السميع العليم۔سے که یاد کرو وہ وقت جبکہ آل عمران کی ایک عورت نے اپنے رب سے یہ التجا کی کہ انے میرے رب جو کچھ میرے پیٹ میں ہے اسے آزاد کر کے میں نے تیری نذر کر دیا۔پس تو میری طرف سے جس طرح ہو اسے قبول فرما لے۔یقینا تو ہی بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔یہ دعا وہ دعا ہے جس کی روشنی میں میں نے وقف نو کی تحریک کی تھی اور یہ تحریک کی تھی کہ عورتیں جو امید رکھتی ہیں یا آئندہ توقع رکھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی گود بھرے گا وہ بچے کی پیدائش سے پہلے اسے وقف کریں۔میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ عام طور پر اس سے پہلے جتنی وقف کی تحریکیں ہوتی ہیں ان میں عورتوں کے وقف کے لئے کوئی گنجائش نہیں تھی۔اور یہ ہماری خواتین پر بہت زیادتی ہے کہ ان کے لئے