ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 329
بیت الفضل - لندن ۲۴ مئی 1991ء 329 بسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ تشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- انعام یافتہ خدا کے پاک بندوں کی وہ دعائیں جو قرآن کریم میں محفوظ ہیں ان کے ذکر میں کچھ ایسی دعائیں نظر سے رہ گئی تھیں جو اس سے پہلے گزر چکی ہیں جہاں تک میں پہنچا ہوں اور اب جب دوبارہ تحقیق کرائی گئی کہ کہیں کوئی ایسی دعا نظر سے رہ تو نہیں گئی تو چند دعائیں سامنے آئی ہیں اس لئے اب میں وہ دعائیں پہلے آپ کے سامنے پیش کروں گا اس کے بعد جہاں سلسلہ مضمون چھوڑا تھا وہاں سے پھر شروع کروں گا۔نقصان کے وقت مانگی جانے والی دعا کی حکمت سب سے پہلی دعا جو روز مرہ عام طور پر مسلمانوں کے استعمال میں رہتی ہے خواہ وہ اس کا مطلب سمجھتے ہوں یا نہ ( سمجھتے) ہوں وہ انا للہ وانا اليورْجِعُونَ ہے۔غالبا یہ اس لئے نظر سے رہ گئی تھی کہ اس میں بظا ہر دعا کا رنگ نہیں ہے۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔مگر جو موقعہ ہے، جہاں یہ استعمال ہوتی ہے وہ نقصان کا موقعہ ہے اور اس دعا کے نتیجہ میں بسا اوقات انسان کی گمشدہ چیزیں مل جاتی ہیں اور بہت سے نقصان پورے ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم نے یہ دعا نقصانات کے ذکر ہی میں بیان فرمائی اور فرمایا کہ میرے مومن بندے ایسے ہیں جب انکو کئی قسم کے مالی جانی، پھلوں وغیرہ کے نقصانات پہنچتے ہیں۔مصیبتوں میں وہ آزمائے جاتے ہیں تو ان کا یہ قول ہوتا ہے اناللہ وانا الیه رجعون ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔یہ ایک بہت ہی موثر دعا ہے۔میں نے ایک دفعہ پہلے خطبہ میں اس کا ذکر بھی کیا تھا کہ بعض بچوں پر میں نے اس کو آزما کر دیکھا اور انہوں نے جب توجہ سے بہت چھوٹی عمر