ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 29

29 ایک طرف چل پڑے تو عادت پڑ جاتی ہے کہ ہر بات کا وہی نتیجہ نکالتے ہیں۔اتنی سے بات سمجھ آگئی کہ مرد اور عورت میں آپس میں تعلق ہوتا ہے تو ہر اشارے کا یہ مطلب نکالنے لگ جاتے ہیں حالانکہ خدا تعالٰی کی کائنات وسیع ہے وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ علية الا بما شاء وہ تو خدا کی کسی چیز کے ایک چھوٹے سے پہلو کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔الا بما شاہ مگر جس کی خدا توفیق بخشے جتنا چاہے ان کو علم عطا فرما دیتا ہے تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو ہمیں یہ بتایا کہ اگر اولوا الالباب ہو تو تم کائنات میں خدا تعالی کی تخلیق پر غور کیا کرو۔فرمایا : اولوا الالباب یہی کرتے ہیں۔صاحب علم و عقل غور کرتے رہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کائنات کیسے بنائی ہے۔کیا کیا نظام اس میں رکھے ہوئے ہیں۔کس طرح خدا تعالیٰ کی صفات اس کا ئنات میں جلوہ گری کرتی ہیں اور جب وہ یہ دیکھتے ہیں تو اس سے ذکر الہی پیدا ہوتا ہے اور یہی عقل کی تعریف ہے نہ اکیلا ذکر الہی کوئی معنی رکھتا ہے جس میں عقل شامل نہ ہو۔آنکھیں بند کر کے آپ کسی کی تعریف کرتے رہیں آپ کو پتہ ہی نہ ہو کہ تعریف کس چیز کی کر رہے ہیں تو اس کو ذکر کہنا ہی حماقت ہے اور چیز دیکھ رہے ہیں مگر تعریف پیدا نہیں ہو رہی، صاحب حمد کی طرف ذہن نہیں جا رہا یہ بھی ایک اندھا پن ہے تو عقل کی نشانی یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں میں امتزاج ہو جائے۔یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہو جائیں اور پھر خدا تعالیٰ کی عجیب شان آپ کو دنیا میں ہر جگہ پھیلی ہوئی دکھائی دے گی جیسا کہ اس آیت میں بیان فرمایا ہے : تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَوتُ السَّبْعُ وَالأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ، وَ إِنْ من شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ، کہ دیکھو سارے آسمان یعنی سات آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اسی کی تعریف کر رہے ہیں اور کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی حمد اور تشریح میں مصروف نہ ہو مگر تم سمجھتے نہیں ہو۔پرندوں کی آوازوں کی اقسام پھر آوازوں کے ذریعے جانور ایک دوسرے سے جو باتیں کرتے ہیں ان کے متعلق ہمیں اتنا تو علم ہے کہ ہم یعنی انسان ایک دوسرے سے اس طرح باتیں کرتے ہیں لیکن