ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 300 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 300

300 خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں کو سبق دینے کا انداز ان آیات میں اگر آپ ذرا سا مزید غور کریں تو حضرت یونس کے ساتھ جو واقعات پہلے گزرے تھے ان کا بڑے لطیف رنگ میں ذکر موجود ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ہمیں بتایا کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو سبق دیتا ہے تو نہایت ہی لطیف رنگ میں ان غلطیوں سے مناسبت رکھتے ہوئے سبق دیتا ہے جو ان سے پہلے ہو چکی ہوتی ہوتی ہیں اب یاد کریں کہ حضرت یونس نے ایک بھرے ہوئے شہر کو چھوڑا تھا، وہ بھرا ہوا شہر ایسا تھا کہ جو اپنے گناہوں کے باعث ہلاک ہونے کے لائق تھا اور خدا کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ صرف یونس ایک ایسا انسان ہے جو بچائے جانے کے لائق ہے اور بھرے ہوئے شہر کو ہلاکت کا نشانہ بنتے ہوئے چھوڑ کر خدا کی وحی کے مطابق حضرت یونس اس شہر سے الگ ہوئے۔چونکہ اس کے بعد ان سے ایک غلطی سرزد ہوئی اور دل میں یہ خیال گزرا کہ شائد خدا میرے خلاف کوئی فیصلہ نہ کرے چونکہ آپ مرسلین میں سے تھے اس لئے ہم یہ بدظنی نہیں کریں گے کہ یہ خیال انہوں نے کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے پر قادر نہیں ہو سکتا۔میں نے غور کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ترجمہ کرنا یہاں درست نہیں ہے بلکہ بہت ہی لطیف بات ہے جو بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یونس نے یہ سوچا ہوگا کہ وہ خدا جو ایک لاکھ گنہگاروں کو سخت گناہوں کے باوجود اس فیصلے کے باوجود کہ میں ان کو ہلاک کردوں گا پھر معاف کر دیتا ہے، تو مجھے کہاں پکڑے گا پھر؟ میں تو پھر نیک بندوں میں شمار ہوتا ہوں۔میں تو اس کے مرسلین میں سے ہوں۔مجھ سے تو زیادہ رحمت کا سلوک کرے گا۔پس اس آیت یعنی مجھ پر قدرت نہیں پا سکے گا کا یہ مطلب ہے کہ اللہ میرے خلاف فیصلہ نہیں دے گا۔جو اننا رحم کرنے والا خدا ہے اس نے مجھے کیا کچھ کہتا ہے؟ لیکن یہ بات وہ بھول گئے کہ ہر شخص سے اس کے حالات اور اس کی توفیق کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے۔خدا کے نیک بندوں سے بہت زیادہ اونچی توقعات ہوتی ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے حضرت یونس کو یہ سبق دینا تھا کہ جب خدا تعالیٰ چاہے اس صورت حال کو بالکل الٹ سکتا ہے۔پس اب آپ کشتی کی طرف آئیں ایک بھری ہوئی کشتی تھی ، وہاں حضرت یونس کے سوا سارے گنہگار تھے لیکن خدا تعالی