ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 283 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 283

283 دوسرا اس میں حکمت یہ تھی کہ مکہ سے جس حالت میں نکالے جا رہے تھے اس حالت کے متعلق دشمن یہ کہتا تھا کہ یہ صدق کی حالت نہیں ہے ، آپ سچائی کی حالت میں نہیں نکالے جا رہے۔دشمن آپ کو جھوٹا کذاب مفتری اور طرح طرح کے اور بد نام دیتا ہے اور کہتا تھا کہ یہ جھوٹا ہے، اس نے خدا پر اپنی طرف سے بات گھڑی ہے ، مگر مدینہ جس نے آپ کا استقبال کیا اس نے صدق کے ساتھ آپ کا استقبال کیا۔صدق کی گواہی دیتے ہوئے استقبال کیا۔پس آپ آذرخذني کا مضمون مدینہ کی نسبت سے یہ ہوگا کہ اے محمد اب تو اس شہر میں داخل ہونے والا ہے جو تیرے صدق پر گواہ ہوگا اور صدق کے ساتھ تجھے قبول کرے گا اور پھر جب تو نکلے گا تو صدق کے ساتھ ہی نکلے گا اور دوبارہ اس شہر میں داخل ہوگا اور دوبارہ داخلے کا مضمون چونکہ پہلے بیان ہو چکا ہے اس لئے فتح مکہ کے اوپر آ خلني مدخل صدق کا مضمون صادق آئے گا اور یہ بات بن جائے گی کہ جب تو دوبارہ اس شہر میں داخل ہو گا۔اس وقت شہر کا ذرہ ذرہ اس کی اینٹ اینٹ اس کی ساری فضا گواہی دے رہی ہوگی کہ یہ مرد صادق ہے، جو والپر اپنے شہر کو لوٹ کر آیا ہے۔اور چونکہ یہ ایک پیشگوئی تھی اس لئے اس کے پورا ہونے کے نتیجہ میں از خود ہی آپ کا صدق مکہ میں داخل ہوتے ہوئے ظاہر و با ہر ہو جاتا تھا۔وا نعل لي مِن لَّدُنكَ سُلطا نصيرا كا مطلب ہے اور میرے لئے اپنی جناب سے کوئی ایسے مددگار انصار عطا فرما دے جن کو تو طاقت عطا کرے غلبہ عطا کرنے اور انکی مدد معنی خیز ہو کوئی کمزور مدد گار نہ ہو بلکہ غالب اور طاقتور ہے وگار ہو چنانچہ یہ دعا بھی انتصار مدینہ کی صورت میں اللہ تعالٰی نے بعینہ اسی طرح قبول فرمائی جیسا کہ سکھائی تھی اور انصار مدینہ کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کی غالب نصرت کرنے کی توفیق ملی اور انصار نے جو مدد کی ہے وہ اگر چہ بظاہر انصار کی طرف سے ہے مگر من لینک کے لفظ نے یہ بتا دیا کہ انصار کی مدد اللہ کے ایماء پر ہے اور اللہ کی طرف سے ہے۔اس کے بغیر اس مدد کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔پس بظا ہر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے مہاجر ساتھی انصار کے ممنون احسان ہونے والے تھے مگر خدا تعالٰی نے دعا من لدنك کا لفظ رکھ کر یہ خوش خبری بھی ساتھ دے دی کہ تیری اس دعا میں