ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 260
260 ایسی بات نہیں جو اگر انسان نہ کرے تو خدا کے نزدیک معتوب ہو جائے تو پھر خدا تعالٰی نے ذمہ داریاں ادا کرنے کا حکم کیوں نہ میر اور احسان کا حکم کیوں دیا ؟ اس میں اور بھی حکمتیں پوشیدہ ہوں گی لیکن دو ایسی حکمتیں ہیں جن کو میں آپ کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ فرض کی ادائیگی پہلے ہوا کرتی ہے اور احسان بعد میں آتا ہے۔اگر فرض ادا نہ ہو تو احسان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس لئے قرآن کریم جو بڑی فصیح و بلیغ کتاب ہے، خدا کا کلام ہے اس نے ایک لفظ میں اس سے پہلے ہونے والی ذمہ داریوں کا بھی ذکر فرما دیا اور مومن سے گویا یہ توقع رکھی کہ جہاں تک اس کی روز مرہ کی ذمہ داریوں کا تعلق ہے، فرائض کا تعلق ہے وہ تو لا زیادہ پورے کر رہا ہے۔ان کو نہ پورے کرنے کا تو سوال ہی نہیں لیکن جہاں تک والدین کا تعلق ہے محض ذمہ داریاں پورا کرنا کافی نہیں ہے۔ان کے ساتھ احسان کا سلوک ہونا ضروری ہے۔ایک یہ حکمت ہے۔دوسری حکمت یہ ہے کہ یہاں لفظ احسان کو سمجھنے کے لئے ہمیں قرآن کریم کی ایک اور آیت کا سہارا لیتا ہوگا جو اس مضمون کے لئے کنجی کی حیثیت رکھتی ہے۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هَل جزاء الاحسان إلا الاحسان کہ احسان کی جزاء احسان کے سوا کیا ہو سکتی ہے۔پس یہ احسان ان کے اوپر ان معنوں میں احسان نہیں ہے جن معنوں میں ہم ایک دوسرے پر احسان کرتے ہیں۔یہ احسان والدین کے اوپر اولاد کی طرف سے کوئی یک طرفہ نعمت نہیں ہے جو ان کو ادا کی جا رہی ہے بلکہ خدا تعالیٰ یہ بیان فرما رہا ہے کہ والدین نے تم سے احسان کا معاملہ کیا تھا۔اس لئے صرف فرض کی ادائیگی کافی نہیں ہوگی جب تک تم ان سے احسان کا معاملہ نہیں کرو گے تم اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے والے نہیں بنو گے۔چنانچہ فرمایا۔هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ الا الاحسان کہ احسان کی جزاء تو احسان کے سوا ہے ہی کوئی نہیں۔کوئی شخص تم پر احسان کرتا چلا جا رہا ہو اور تم اپنے روزمرہ کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہو تو یہ کافی نہیں ہے۔چنانچہ اس مضمون کو آیت کے آخری حصے نے کھول دیا جہاں یہ دعا