ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 242
242 اطاعت کا تقاضا اعتراض نہ کرو یہاں جو مشکل مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ جس چیز کا انسان کو علم ہو اس کے متعلق تو وہ سوال ہی نہیں کرتا جس چیز کا علم نہ ہو اس کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو یہاں پھر یہ کیا گفتگو ہو رہی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تو نے آئندہ ایسی باتوں کا سوال کیا جس کا تجھے علم نہیں تو تو ظالموں میں سے ہو جائے گا۔نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا اور حضرت نوح کہتے ہیں کہ میں تو بہ کرتا ہوں، میں تیری پناہ میں آتا ہوں۔اے خدا ! آئندہ کبھی میں ایسا سوال نہ کروں جس کا مجھے علم نہ ہو۔تو یہ عجیب سا معمہ ہے کہ اگر علم ہو تو سوال کرنے کی ضرورت کیا ہے اور اگر علم نہ ہو تو سوال کرنا گناہ کیسے ہو گیا۔دراصل یہاں سوال کی بجائے حضرت نوح کی پردہ داری فرمائی گئی ہے۔ستاری کا سلوک ہوا ہے۔ایک خفیف سا اعتراض دل میں پیدا ہوا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا گیا اور چونکہ حضرت نوح ایک بڑے بلند پایہ نبی تھے اس اعتراض پر خود آپ نے بھی معلوم ہوتا ہے پردہ رکھا ہوا تھا۔آپ نے جو دعا کی ہے اور سوال کیا ہے وہ بتا رہا ہے کہ ادب اپنی جگہ ہے لیکن ساتھ ہی بے قراری بھی ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی میں کیا کروں۔میرا دل بے چین ہو گیا ہے۔خدا کے جو اولوا العزم انبیاء ہوتے ہیں ان کا دل ایسی باتوں پر بے چین نہیں ہونا چاہیے۔ان سے خدا یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ سمجھ جائیں کہ کچھ ایسے واقعات ضرور ہوئے ہیں جن کا مجھے علم نہیں لیکن خدا کے علم میں ہیں اور خدا کا فیصلہ سچا ہے۔اس لئے فیصلے سے متعلق سوال اٹھانے کا مجھے کوئی حق نہیں۔یہ جو مضمون ہے یہ بہت ہی لطیف اور بہت گہرا مضمون ہے اور اس کو بھلا دینے کے نتیجے میں میں نے دیکھا ہے بہت سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے احمدی بھی ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔خلفائے وقت کے کئی ایسے فیصلے ہوتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں بارہا ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ جو کسی باریک حکمت کے پیش نظر کئے جاتے ہیں اور ان کا دنیا کو علم دیا بھی نہیں جا سکتا۔یہ دوسرا مضمون بھی اس میں مخفی ہے اور بہت ہی اہمیت والا مضمون ہے۔بعض دفعہ انسان ایک سوال کر کے مزید دکھ میں مبتلا ہوتا ہے کیونکہ اس کا جواب اس کو اور تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔ایک بیٹا ہے جس کی بد کاری کے