ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 215

215: حضرت موسیٰ کی بے کسی کی دعا پھر حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک دعا ہے جبکہ ان کی قوم نے ان کے ساتھ بیوفائی کی اور اللہ تعالٰی کے واضح ارشاد کو سننے کے باوجود اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔ایسے وقت میں جبکہ خدا تعالٰی نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک شہر میں داخل ہو جائیں جس کی فتح ان کے لئے مقدر کی گئی تھی تو اس موقعہ پر انہوں نے کہا - فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَا لا إِنَّا هُنَا قَاعِدُونَ (سورۃ المائدہ : (۲۵) کہ اے موسیٰ جاتو اور تیرا رب دونوں لڑتے پھرو۔ہم تو یہاں بیٹھے رہنے والے ہیں۔جب تم دونوں ، تم اور تمہارا رب لڑکے شہر فتح کر لو گے تو پھر ہمیں بتا دیتا۔ہم بھی داخل ہو جائیں گے۔اس وقت حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ عرض کیا۔آت التي لا أملك إلا نفْسِي واخي اے میرے رب ! میرا کمزوری کا یہ حال ہے کہ میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی کو اپنے ساتھ نہیں پاتا۔سب میرا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔اس دعا میں بھی بڑی گہری حکمت ہے۔جواب دینے والوں نے موسیٰ سے کہا تھا کہ تو اور تیرا خدا لڑتے پھرو۔دو کا ذکر کیا تھا۔خدا تو ساری کائنات کا خدا ہے اور مالک ہے۔اس نے کسی سے کیا لڑتا ہے جب وہ کسی کی ہلاکت کا فیصلہ کرے گا تو وہ ان کو ہلاک کر دے گا لیکن دو لڑنے والے ضرور تھے۔ایک موسیٰ تھے اور ایک ان کا بھائی تھا۔ان کے اس جواب سے یہ شبہ پڑ سکتا تھا کہ موسیٰ ہی صرف وفادار رہا اور موسیٰ کا بھائی بھی ان لوگوں میں شامل ہو چکا ہے۔اس شیعہ کے ازالے کی خاطر حضرت موسیٰ کی دعا من و عن ہمارے سامنے رکھ دی گئی کہ دیکھو موسیٰ اکیلا ہی وفادار نہیں تھا اس کا بھائی بھی وفادار تھا اگرچہ قوم نے اس کا ذکر نہیں کیا تو یہ دعا بتائی کہ رب إني لا أملك الا نفْسِينِي وَأَخِي۔اے خدا ! میں اکیلا ہی تیری راہ میں چلنے والا وفادار نہیں ہوں بلکہ میرا بھائی بھی میرے ساتھ ہے لیکن ہم صرف دو ہی ہیں۔فَا فَرُقُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الفسقينَ (سورۃ المائدہ : (۳۶) ہمارے اور فاستوں کی قوم کے درمیان تفریق کر دے۔ایسا سلوک فرما کہ ظاہر ہو جائے کہ تیرے پسندیدہ لوگ ہیں ، تیری رضا کو حاصل کرنے والے لوگ ہیں اور وہ لوگ نہیں جن سے تو ناراض ہوتا ہے۔