ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 185
185 دعاؤں کو قبول فرمانا۔ہمیں پاک و صاف رکھنا۔ہم میں ذرا بھی غیر کا کوئی شائبہ تک باقی نہ رہے۔خالص تیرے لئے ہم یہ کام کر رہے ہوں اور تو ان کاموں کو قبول کر رہا ہو کیونکہ یہ دعا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سلسلے کی بنیاد ڈالنے والی دعا تھی۔اور اس عظیم الشان رسول کے برپا کرنے کی دعا تھی جس کی خاطر ساری کائنات کو پیدا کیا گیا تھا۔اس لئے غیر معمولی تقویٰ کی ضرورت تھی اور غیر معمولی انکسار کی ضرورت تھی۔یہ وہ مقام تھا جہاں نمبر داخل ہو سکتا تھا۔بعض تکبر نیکی میں بھی داخل ہو جاتے ہیں اور شیطان بسکا سکتا تھا کہ تم دونوں ؟ تم تو اتنے عظیم الشان وجود ہو کہ وہ عظیم وجود جس کی خاطر ساری کائنات کو پیدا کیا گیا تھا وہ تمہاری نسل سے پیدا ہونے والا ہے تو جتنا بڑا مقام عطا ہونے والا تھا اتنی ہی عاجزی بھی سکھائی گئی اور اس طرح انہوں نے عاجزانہ طور پر خدا کے حضور یہ دعائیں مانگیں جو بعینہ اسی طرح قبول ہوئیں۔حیرت انگیز طریق پر انہیں لفظوں میں یہ دعا قبول ہوئی ہے جن لفظوں میں ابراہیم علیہ السلام نے خدا سے مانگی تھی لیکن ترتیب انسانی سوچ کی تھی اگر چہ نبی تھا مگر بہر حال انسان تھا اس لئے اللہ تعالٰی نے ترتیب بدل دی چنانچہ فرمایا : هُوَ الَّذِي بَحَتْ فِي الأمين رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ (سورة الجمعه : ) ابراہیم علیہ السلام نے تو یہ عرض کیا تھا کہ جب وہ تلاوت آیات کر دے، پھر ان کی تعلیم دے دے ، پھر ان کی حکمت سکھا دے تو اس کے نتیجے میں اس کے اندرپاک کرنے کی صفات پیدا ہو جائیں گی پاک کرنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی۔پھر وہ ان کو پاک کرے کیونکہ جب آیات پڑھی جائیں گی، ان کی تعلیم دی جائے گی، ان کی حکمت سکھائی جائے گی تو یہ سارا پاک کرنے والا ایک ایسا سلسلہ ہے جس کے نتیجے میں جو بھی لوگ اس کارخانے سے گزریں گے آخر تک پہنچتے پہنچتے پاک ہونے کے لئے تیار ہوں ويزكية پھر وہ ان کو پاک بھی کرے گا۔خدا تعالٰی نے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کا اصل مقام قبولیت دعا کے وقت ظاہر فرمایا اور فرمایا کہ ابراہیم کی سوچ تو یہ تھی کہ وہ کتاب اور حکمت سکھانے کے