ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 153
153 بيت الفضل - لندن ۵ اپریل ۱۹۹۱ء پيشو الله الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ رمضان المبارک کا آخری عشرہ تشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :- رمضان المبارک اپنے آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے اور آج رات سے وہ عشرہ شروع ہو گا جس عشرے میں ایسی مبارک گھڑیاں بھی آتی ہیں جب خدا تعالیٰ کے فضل سے قبولیت خود آسمان سے نیچے اترتی ہے اور دعاؤں کو دلوں سے اٹھاتی ہے اور ایک ایسی رات بھی آنے والی ہے جسے لَيْلَةُ القدر کہا جاتا ہے، جس کے متعلق فرمایا کہ وہ ساری عمر کی تمام راتوں سے بہتر رات ہے۔اگر اس کی برکتیں نصیب ہو جائیں تو انسان کی زندگی بن جائے۔پس یہ وہ دن ہیں جو خاص دعاؤں کے دن ہیں۔خاص محنت کے دن ہیں۔یہ وہ راتیں ہیں جن راتوں کو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ ہ وسلم اس طرح زندہ کر دیا کرتے تھے، اس طرح روشن کر دیا کرتے تھے کہ دنوں کی روشنی سے ان کی روشنی بڑھ جاتی تھی۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بتاتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جو ہمیشہ عبادت پر مستعد رہتے تھے ان راتوں میں تو یوں لگتا تھا کہ کمر کس لی ہے اور ایسے مستعد ہو گئے گویا آرام کو بھول گئے۔قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ بعض مواقع پر اللہ تعالیٰ نے خود آپ کو سہولت کی نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ اتنی محنت نہ کر اسے کچھ کم کر دے۔پس یہ وہ عشرہ ہے جو بہت سی برکتیں لیکر آنے والا ہے۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم میں سے زیادہ سے زیادہ بندوں کو اس عشرے کی برکتوں سے نوازے اور ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کی نظر میں ان برکتوں کے مستحق ٹھہریں۔آله و