ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 110

110 کیا باتیں ہمیں دکھائیں لیکن اس کا تعلق زندگی کے آغاز سے بھی ہے۔وہ تمام سائنس دان جنہوں نے زندگی کی پیدائش پر غور کیا ہے اور دنیا میں لاکھوں سائنس دان ہیں جن کے دن برات اس بات پر وقف ہیں وہ یہ معمہ حل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں کہ زندگی کا آغاز کیسے ہوا تھا۔اس بات پر وہ سب بہر حال متفق ہو چکے ہیں کہ اگر غیر معمولی طور پر طاقت در آسمانی بجلیاں سمندری پانیوں پر نہ گر تھیں تو زندگی کا وہ مادہ پیدا ہو ہی نہیں سکتا تھا جس سے آگے زندگی نے وجود پکڑنا تھا۔وہ اینٹیں نہیں بن سکتی تھیں جن سے زندگی نے تعمیر ہوتا تھا۔میں يُسَبِّحُ الرعد بحمده کا مضمون صرف موجودہ زمانے سے نہیں آئندہ زمانوں سے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے بھی ہے یعنی ابھی زندگی وجود میں ہی نہیں آئی تھی تو بجلی گویا ہم پر ہنس رہی تھی کہ بے وقوفو! تم مجھے سمجھا کرو گے کہ میں تو جلانے اور ہلاک کرنے والی چیز ہوں حالانکہ میری وجہ سے زندگی کا آغاز ہوا ہے۔مجھے ندا نے تمہیں پیدا کرنے کے لئے اور کائنات میں ہر قسم کی زندگی کی صورتیں پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا ہے تو دیکھیں اللہ تعالیٰ کی کیا شان ہے۔صرف ایک آیت کے ایک حصے پر کچھ غور کریں تو آپ کو خدا تعالی کی کتنی صفات دکھائی دیں گی اور پھر انسان بعض دفعہ یہ سوچتا ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ سورۂ فاتحہ میں خدا تعالٰی کی نثار کے صفات کا ذکر ہو حالانکہ يُسيح الرعد عمر میں جن علوم کی طرف اشارہ ہے جن صفات حسنہ کی طرف اشارہ ہے، جن کے بغیر يُسب الزَّعْدُ بِحمدِ کا مضمون پیدا ہی نہیں ہوتا وہی ننانوے سے زیادہ ہیں بلکہ اگر آپ غور کریں تو نتانوے ہزار (۹۹۰۰۰) سے بھی زیادہ دکھائی دیں گی۔سورہ فاتحہ ایک عظیم نعمت ہے پس یہ سورۃ فاتحہ ہے جس کو آپ غور سے سمجھنے کی کوشش کریں اور اس مضمون کو اپنے دل پر جاری کریں۔اس میں ڈوبنے کی کوشش کریں۔اسے کشتی بنائیں اور اس میں ذات باری تعالیٰ کی سیر کریں تو یہ وہ سفینہ ہے جو ایک بے کنار سمندر میں ہمیشہ ہمیش کے لئے سفر کرتا رہے گا اور کبھی آپ کو کوئی کنارہ دکھائی نہیں دے گا۔پس اللہ تعالٰی نے سورۂ فاتحہ جیسی نعمت جس قوم کو عطا فرما دی ہو وہ بہر حال یہ نہیں کہہ سکتی کہ اے