ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 96

96 شیطان کی اجتماعی قوت کے ساتھ جو آخری بھر پور حملہ ہونے والا ہے اس کا دفاع کرنے کی انسان کو اور خصوصیت سے مسلمانوں کو توفیق مل جائے کیونکہ اگر مسلمانوں نے اس کا دفاع کر لیا تو تمام بنی نوع انسان مسلمانوں کے دفاع کے پیچھے حفاظت میں آجائیں گے اور مسلمانوں کے دفاع کی سب سے بڑی ذمہ داری احمدیوں پر عائد ہوتی ہے اور یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں اس کی بناء حضرت اقدس محمد مصطفیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و کی ایک حدیث پر ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آخری دور میں جب بلائیں اپنی انتہا کو پانچ جائیں گی تو اس وقت مسیح موعود کی دعائیں ہی ہیں جو اسلام کے دشمنوں سے اسلام کو اور دنیا کو بچائیں گی۔اس رمضان کو مسلمانوں کے دفاع کا رمضان بنا دیں پس اس پہلو سے یہ رمضان عین وقت پر آیا ہے یعنی جب بلائیں کھل کر سامنے آچکی ہیں اور کچھ ان کے پس پردہ مخفی ارادے ہیں جو ظاہر ارادوں سے بھی بدتر ہیں لیکن ہمیں اندازہ ہو چکا ہے کہ اس بلا کے پیچھے پیچھے اور بھی بہت سے بلائیں آنے والی ہیں تو اس وقت ہم رمضان مبارک میں داخل ہو رہے ہیں اور دعاؤں کا خاص موقعہ ہمیں میسر ہو گا۔پس اس رمضان مبارک کو خصوصیت کے ساتھ بنی نوع انسان کے دفاع کا رمضان بنا دیں۔مسلمانوں کے دفاع کا رمضان بنا دیں۔انسانیت کے دفاع کار مضان بنا دیں اور اسلام کے دفاع کا رمضان بنا دیں اور دعا یہ کریں کہ اے خدا! ہم اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اتنی بڑی بڑی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو خود تو نے۔پیدا کی ہیں اور جن کی خبر تو نے اصدق الصادقین حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعے نہیں 1400 سال پہلے عطا فرما دی تھی۔پس ہم کمزور ہیں۔نہتے ہیں۔بے طاقت ہیں اور ہمارے مقابل پر جو طاقتیں ہیں ان کو تو نے ہی اتنی دنیاوی عظمت بخش دی ہے کہ ہم ان کے سامنے بالکل بے بس ہیں ، پس تیرے ہی طرف ہم جھکتے ہیں۔تجھ سے ہی رجوع کرتے ہیں تجھ سے ہی عاجزانہ دعائیں کرتے ہیں کہ ان پیشگوئیوں کے دوسرے حصوں کو بھی سچا کر دکھا، یعنی دنیا کی یہ عظیم طاقتیں اپنے ایسے دنیاوی خزائن کے ذریعے جن کے مقابل پر ہمیں ایک دمڑی کی بھی حیثیت