ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 513
513 کیا گیا۔اب ماضی کی طرف بھی نماز ہمیں لیکر جاتی ہے۔چنانچہ اس کے معا" بعد جب باہم كَمَا صَلَّيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِند كم کر درود بھیجتے ہیں تو ماضی کے نیک لوگوں کے لئے بھی دعائیں مانگتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کے بعد جس کا سب سے زیادہ حق ہے کہ اس پر سلام بھیجا جائے تو وہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ابوالانبیاء بھی کہلاتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام وہی بزرگ نبی ہیں جن کی اولاد میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پیدا ہوئے۔آپ وہی بزرگ نبی ہیں جن کی دعاؤں کو خدا تعالٰی نے قبولیت کا شرف بخشا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم آپ کی دعاؤں کا بہترین ثمر ہیں۔پس اس تعلق کو ظاہر کرنے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ تم اگر اپنے محسنوں کے لئے دعا کرتے ہو اور ان کو تحائف پیش کرتے ہو تو ایک بڑے عظیم سابق محسن کو بھی یاد رکھنا اور وہ ابراہیم ہیں اور ان کے حوالے سے پھر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر سلامتی بھیجو۔سلامتی تو ہم دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر بھیج رہے ہیں۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے وجود کے ساتھ منسلک کر کے حضرت ابراہیم کو بھی بہت ہی عظیم خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ما صلیت میں جاری سلامتی ہے، کوئی ماضی کی سلامتی نہیں ہے۔یہ مضمون بھی لوگ غلط سمجھتے ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ یہ مراد نہیں ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم پر سلامتی بھیجی گئی تھی اور ختم ہو گئی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر سلامتی بھیج۔اگر ایسی محدود سلامتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کیلئے مانگی ہے تو اس سے نہ مانگنا بہتر ہے۔کما صلیت میں دراصل ماضی کا واقعہ ہے۔ماضی میں سلامتی شروع ہوئی تھی اس لئے ماضی کا صیغہ بولا گیا ہے ورنہ ہرگز یہ مراد نہیں کہ وہ سلامتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے وقت پر اگر ختم ہو گئی بلکہ قرآن خود بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم کا نام سلامتی کے ساتھ قیامت تک لیا جائے گا۔آخرین میں بھی سلامتی کے ساتھ آپ کو یاد کیا جائے گا۔پس اس طرح اس دو لب یہ بنے