ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 506 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 506

506 نیت سے تجھنے کا مضمون سمجھنے کے بعد ہماری تمام قربانیوں پر ایک غیر معمولی اثر پڑے گا چنانچہ نماز نے ہمیں صرف مالی قربانیوں سے متعلق ہی نہیں سمجھایا بلکہ بدنی قربانیوں سے متعلق بھی یہی سمجھایا ہے فرمایا التَّحِيَاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَواتُ وَالطَّيِّبَاتِ اللہ تعالی کو تحفہ پیش کرنے کے آداب السکوت سے بدنی قربانی مراد ہے اور انقبات سے وہ پاکیز چیزیں مراد ہیں جو قولی ہوں یا فعلی ہوں یا جنس سے تعلق رکھتی ہوں اور جو ہم خدا کے حضور پیش کرتے ہیں۔پس اس پہلو سے انسان کے خدا سے تمام تعلقات تحفہ پیش کرنے کے تعلقات ہو جاتے ہیں۔جو شخص تحفہ قبول کرتا ہے اس کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔ایک وہ جو انسان کسی بڑے انسان سے تحفہ لیتا ہے جبکہ اس کے مقابل پر وہ مالی لحاظ سے بھی اور دوسرے لحاظ سے بھی اونی ہوتا ہے۔ایسا شخص دل میں خواہش تو بہت رکھتا ہے کہ میں کسی طرح بڑھا چڑھا کر پیش کروں لیکن اس خواہش کو پورا نہیں کر سکتا۔اس لئے اگر وہ شخص جس کے حضور وہ تحفہ پیش کرنا چاہے حقیقتاً معزز ہو اور دل کا کریم ہو تو وہ اس کے ادنی کو بھی بہت بڑھا کر قبول کرتا ہے۔اس کے سوا اس غریب کے دل کی تمنا پوری ہونے کی صورت باقی نہیں ہوتی گویا اس کے دل کی تمنا بھی کسی بڑے انسان کے کرم پر منحصر ہے۔پس اس پہلو سے جہاں تک خدا کو تحفہ دینے کا تعلق ہے وہ تو یہی رشتہ بنتا ہے۔ایک ایسے وجود کو تحفہ پیش کیا جا رہا ہے جو ہر لحاظ سے بالا ہے اور اسے ضرورت نہیں ہے۔ہم اس کو تحفہ پیش کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے لیکن جب وہ قبول کرتا ہے تو کریم کے نتیجے میں اس رنگ میں قبول کرتا ہے جیسے تم نے بہت بڑا کام کیا ہے۔اور چونکہ وہ زیادہ دینے کی استطاعت رکھتا ہے اس لئے وہ از خود زیادہ دیتا ہے ورنہ پیش کرنے والے کو تو اپنی غربت اور کم مائیگی کا احساس تھا۔وہ تو اس شرم سے پیش کر رہا ہے کہ میں جو پیش کر رہا ہوں اس لائق نہیں کہ میں یہ پیش کر سکوں کیونکہ میرا محبوب اتنا بڑا ہے کہ میری طرف سے کچھ بھی پیش کیا جائے تو وہ چیز اس لائق نہیں ٹھرتی کہ اس کے حضور پیش کی جائے۔پس اس کے بعد اس کے دماغ میں یہ خیال آنا کہ جتنا میں دوں گا اس سے بڑھ کر وہ مجھے دے دے گا۔کتنی کمینی بات ہوگی کتنی گھٹیا بات ہو جائے گی