ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 500
500 اب آپ دیکھیں کہ وہ لوگ جو جہالت سے یہ کہتے ہیں کہ اسلام کی عبادتیں عجیب بور کرنے والی عبادتیں ہیں۔ایک ہی مضمون تکرار کرتے چلے جاؤ۔ہر روز کم سے کم پانچ دفعہ اس کے حضور حاضر ہو۔ہر رکعت میں اس کے سامنے وہی دعائیں کرتے چلے جاؤ۔اگر آپ کا تصور سرسری اور ظاہری ہے تو یہ خالی برتن ہیں۔ان برتنوں سے آپ یقیناً کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے لیکن برتنوں کو تو بھرا جاتا ہے اور خدا تعالی نے اس رنگ میں برتن عطا کئے ہیں اور بھرنے والے وہ مضامین بخشتے ہیں کہ جو ہر دفعہ برتنوں میں نیا مضمون بھرتے ہیں نیا رنگ بھرتے ہیں، نیا حسن بھرتے ہیں، نئی لذتیں بھرتے ہیں اور یہ سلسلہ ابد تک جاری رہنے والا سلسلہ ہے اور یہ سلسلہ موت کے بعد بھی جاری رہے گا کیونکہ خدا کی عظمتوں کا کامل تصور کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔یہ ایک لامتناہی ارتقاء کا سلسلہ ہے جو ہمیشہ جاری رہنے والا ہے۔اس کے بعد ہم التحیات کی طرف آتے ہیں۔التحیات میں ہم خدا کے حضور یہ عرض کرتے ہیں کہ التَّحِيَاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوتُ وَالطَّيِّبَاتِ سب مجھے خدای کے لئے ہیں۔وَالصَّلوات والطيبات اور سب بدنی عبادتیں بھی خدا ہی کے لئے ہیں اور وہ پاکیزہ چیزیں جو اموال سے یا زندگی کی صلاحیتوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ بھی سب خدا ہی کے لئے اور خدا کے حضور تحفہ ہیں۔اللہ کی محبت کے نتیجے میں اسے تحفے پیش کئے جاتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ تحفہ کیا ہوا کرتا ہے اور کیسا تحفہ ہے اور کیا روز ایک ہی تحفہ آپ بار بار پیش کرتے چلے جائیں گے۔اس مضمون پر جب آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ تحفہ نہ ٹیکس ہے نہ تجارت ہے بلکہ تھنے میں ایک خاص مضمون پایا جاتا ہے جس کو سمجھے بغیر آپ التحیات کا حق ادا نہیں کر سکتے تھے میں یہ مضمون پایا جاتا ہے کہ مادے کو روحانی کیفیات میں تبدیل کرنا۔یہ ایک بارٹر سسٹم (Barter System) ہے جس کا میٹریل ازم (Materialism) سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے اور Materialism میں بھی جہاں انسانی مجبوریوں کے تحت دل اعلیٰ لذات کی تمنا کرتا ہے وہاں تھنے کا مضمون ضرور داخل ہو جاتا