ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 469 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 469

469 بیت الفضل - لندن ۱۲ جولائی 1991ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ فرعون کے غرق ہونے کے بارے میں ایک نظریہ تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : گزشتہ جمعہ میں میں نے غرِ المَغضُوبِ علی کی تفسیر کے دوران منضوب علیہم گروہ کی بعض دعائیں نمونہ " آپ کے سامنے رکھی تھیں وہی مضمون آج بھی جاری رہے گا لیکن دوسری آیت جو گزشتہ تسلسل میں پیش کرنی تھی اس سے پہلے میں فرعون کے عرق سے متعلق کچھ مزید کہنا چاہتا ہوں۔میں نے یہ استنباط کیا تھا کہ قرآن کریم نے جب یہ فرمایا کہ جب فرعون غرق ہونے کے قریب پہنچا تو اس نے ایک دعا کی اور اس دعا کے نتیجے میں ہم نے اس کو یہ جواب دیا کہ الن وَقَدْ عَصَيْتُ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ (سوره یونس : آیت ۹۳) اب تو یہ دعا کا وقت نہیں رہا کیونکہ اس سے پہلے تو مسلسل نا فرمانی کرتا رہا اور فساد پھیلاتا رہا۔فَاليَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لیکن آج کے دن ہم تیرے بدن کو ضرور نجات دے دیں گے۔لِتَكُونَ لِمَن خَلْفَكَ آيَةً لا کہ وہ جو تیرے بعد آنے والے ہیں ان کے لئے تو عبرت کا نشان بن جائے۔اس بحث میں میں نے یہ امکان پیش نظر رکھا تھا اور میں اب بھی یہی یقین رکھتا ہوں کہ بدن کی نجات کا جو وعدہ فرعون کو دیا گیا تھا اس سے مراد محض لاش کی نجات نہیں کیونکہ لاشیں تو بہتوں کی کنارے پر پہنچ گئی ہوں گی۔بہت سے ایسے ہیں بلکہ اکثر فرعون وہی ہیں جن کی لاشیں ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دی گئی تھیں تو خصوصیت کے ساتھ اس فرعون کی دعا کے نتیجے