ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 467 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 467

467 کا تھا۔۔اس کی موت کے بعد یہ نوجوان تھا جب یہ بادشاہ بنا ہے۔اور چونکہ یہ حضرت موشی سے پہلے ہی حسد کرتا تھا اور جانتا تھا کہ یہ بنی اسرائیل کا ایک لڑکا ہماے دربار میں ہمارے بادشاہ کے گھر میں پل رہا ہے۔اس کی وجہ سے اس کے دل میں حسد تھا۔تو ذاتی انتقام کی خاطر بھی اس نے بہت زیادہ شدت اختیار کی۔جب یہ واقعہ ہوا ہو گا۔جس وقت بھی ہوا ہے اس وقت حضرت موسیٰ اپنی بڑی عمر کو پہنچ چکے تھے۔اور یہ شخص ابھی بالکل نوجوان تھا۔اگر یہ اس وقت غرق ہو جاتا۔واقعہ ” ڈوب کر مر چکا ہوتا تو اس کی جو لاش ممی کی ہوئی ملتی وہ نو جوانی کی لاش ہونی چاہیے تھی۔اس کی جو لاش دریافت ہوئی ہے وہ ایک نوے سالہ انسان کی لاش ہے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ لازما " اللہ تعالیٰ نے اس کو جب بدن کی نجات کا وعدہ فرمایا تو مراد دنیاوی زندگی کی نجات کا وعدہ ہے۔خالی بدن کے رکھنے کا تو کوئی مطلب نہیں۔اور فرمایا کہ یہ اس لئے ہو گا کہ اس کے بعد جب بھی مرے گا تیری لاش ہمیشہ کے لئے عبرت کے نشان کے طور پر محفوظ رہے گی اور پھر ہم دنیا کو بتائیں گے کہ یہ وہ ظالم انسان تھا جس نے خدا سے ٹکر لی تھی۔ایک اور وجہ بھی اس کی لاش کو بچانے کی یہ نظر آتی ہے کہ اگر یہ ڈوب جاتا تو ممکن ہے پانی اترنے کے بعد اس کی لاش ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی۔لیکن اس کا بہت کم امکان تھا۔کیونکہ سمندر میں ڈیلٹا کے پاس ایسی مچھلیاں ہوتی ہیں جو لاشوں کو کھا جاتی ہیں بڑی جلدی اور پھر اریں بھی بہا کے کہیں سے کہیں لے جاتی ہیں۔معلوم ہوتا ہے جب فرعون ڈوبنے لگا ہے جب اس نے دعا کی ہے تو اس کے حوالی موالی اس کے ساتھی زور مارتے رہے ہیں کہ کس طرح اس کو بچالیں اور بالآخر اس کو دنیا کی زندگی کی نجات مل گئی تھی۔دعا کے مضمون کے لحاظ سے آخری نتیجہ یہ نکالنا چاہئے کہ آخری سانس کی دعائیں قبول نہیں ہوا کرتیں۔اس لئے تو بہ کے لئے وہ وقت ہوا کرتا ہے جب تو بہ کے بعد بھی ایک زندگی گزارنی ہو۔اگر تو بہ ایسے وقت میں ہو جب کہ انسان اپنے آخری وقت کو پہنچ چکا ہو تو ایسی توبہ قبول نہیں ہوا کرتی۔اس لئے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالٰی ہمیں منضُوب علی جی کی طرح اس وقت توبہ کی توفیق نہ بخشے جبکہ تو بہ کے دروازے بند