ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 44
44 برو (DAVD ATTENBOROUGH) کی ایک دو ریڈیو کیسٹس کا ذکر کر چکا ہوں۔مجھے بعد میں کسی نے بتایا کہ جو کچھ انہوں نے ویڈیو کی صورت میں پیدا کیا ہے اس کو انہوں نے کتابی شکل میں بھی ڈھالا ہوا ہے اور ان کی تصنیف بھی ملتی ہے مگر بہرحال یہ ایسی چیزیں ہیں جو ہر کس و ناکس کی پہنچ میں نہیں اور نماز ہر شخص نے پڑھنی ہے تو بعض لوگوں کی رسائی ایسے مواد تک ہوتی ہے جن سے خدا تعالٰی کے فضل کے ساتھ ان کا علم پڑھتا ہے اور اگر ان کے اندر بصیرت ہو تو وہ اس علم کے بڑھنے کے ساتھ خدا تعالیٰ کی یاد میں بھی ترقی کرنے لگتے ہیں۔لیکن اگر دیکھنے کی طاقت ہی کچھ نہ ہو تو وہ علم الگ پڑا رہتا ہے اور خدا کا تصور الگ پڑا رہتا ہے اور ان دنوں کے درمیان رشتہ قائم نہیں ہوتا۔مگر سوال یہ ہے کہ ساری دنیا تو اس قسم کے علم تک رسائی نہیں رکھتی اور وہ دنیا جو پہلے گزر چکی ہے جن میں ایسے زمانے شامل ہیں جن میں خدا کے عظیم انبیاء گزرنے جو خدا کو سب سے زیادہ یاد کرنے والے تھے اور وہ زمانہ بھی شامل ہے جس میں حضرت یس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پیدا ہوئے جن سے زیادہ ذکر کرنے والا نہ پہلے پیدا ہوا نہ آئندہ کبھی ہو سکتا ہے تو اس زمانے میں تو ڈیوڈ ایٹن برو کا وجود ہی کوئی نہیں تھا۔اس سائنس کا وجود نہیں تھا جس نے ڈیوڈ مٹن برو پیدا کئے۔ان ایجادات کا کوئی تصور نہیں تھا جن کے ذریعے سے انسان کی خدا تعالیٰ کی ان صنعتوں تک رسائی ہوئی جن میں اس نے حیرت انگیز تخلیق کے کرشمے دیکھے۔پس نماز تو ہر زمانے کے لئے ہے اور ذکر الہی ان ظاہری علوم کا محتاج نہیں مگر ذکر التی اس اندرونی توجہ کا ضرور محتاج ہے جس کے نتیجے میں ہر جگہ انسان کو خد النا شروع ہو جاتا ہے اور نظر میں گہرائی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اور اپنے گردو پہیں جہاں دیکھتا ہے وہ خدا کے وجود کو وہاں جلوہ گر دیکھتا ہے اور جتنی بصیرت تیز ہو اور جتنی محبت بڑھے اتنا ہی خدا کا وہ جلوہ زیادہ خوبصورت، دلکش اور دار یا دکھائی دینے لگتا ہے۔پس عام دنیا کے دستور کے لحاظ سے بھی نماز میں اور خصوصاً سورۃ فاتحہ میں ہر انسان اپنی اپنی توفیق کے مطابق رنگ بھر سکتا ہے۔حواس خمسہ کی میں نے بات کی ہے اب یہ بھی ایک بڑی دلچسپ غور طلب بات ہے کہ سورۂ فاتحہ میں رب العالمین کے بعد رحمان کا ذکر فرمایا گیا