ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 448

448 دعاؤں سے بچیں اور ان دعاؤں کی روح سے بچیں جو قرآن کریم میں عبرت کے طور پر ہمارے لئے محفوظ کی گئی ہیں۔اور اس پہلو سے آج کا خطبہ اسی موضوع پر ہو گا۔صرف دنیا حاصل کرنے کی دعامانگنا خطرناک ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فين النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا اينا في الدُّنيا وَ مَالَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ کہ بعض انسانوں میں سے ایسے بھی ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا ہمیں اس دنیا کی سند عطا فرما یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔اس دعا کا پس منظر یہ ہے کہ حج کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِذَا قَضَيْتُمْ منَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا الله گذركم با: عُمْ أو أشد ذكرًا کہ جب تم حج کے مناسک ادا کر چکو یعنی عبادات پوری کر چکو تو پھر اللہ تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جس طرح تم اپنے آباء و اجداد کو یاد کیا کرتے ہو۔بلکہ اس سے بھی بہت بڑھ کر۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ بعض ان میں سے ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا کی اچھی چیزیں عطا فرما۔سوال یہ ہے کہ اس کالج کے مضمون سے کیا تعلق ہے۔وہ تعلق یہ ہے کہ وہ انسان جو اس دنیا کا ہو چکا ہو اور دنیا ہی کے لئے جیتا ہو دنیا ہی کے لئے مرتا ہو۔وہ جب عبادت کے معراج پر بھی پہنچتا ہے تو اس کی دعا دنیا طلبی کی دعا ہی ہوتی ہے۔پس فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ حج میں جو لوگ میرے قریب آئے۔جو اپنی عبادت کے معیار کو پہنچے وہ سب کے سب ایسے ہیں جو میری تمنا کو لیکر آئے تھے۔کچھ بد نصیب ان میں سے ایسے بھی ہیں جو دنیا کی آرزوئیں لے کر یہ جان جوکھوں کا سفر اختیار کرنے والے تھے۔اور آخر پر جب وہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے رہے تو مجھ سے دنیا ہی مانگتے رہے۔فرمایا میں ان کو دنیا دوں گا لیکن پھر آخرت میں ان کیلئے کوئی حصہ نہیں ہوگا۔یہاں جو سزا کا پہلو ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ عبادت میں جب ایک انسان معراج کو پہنچتا ہے تو خدا قریب آچکا ہوتا ہے۔اس وقت خدا کو نہ مانگنا اور دنیا کی طرف جھک جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بالآخر دنیا ہی کی عبادت کرتے ہیں۔پس دنیا مانگنا منع نہیں ہے مگر جس پس منظر میں دنیا