ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 444
444 تو ہمیشہ سے خدا کی حفاظت حاصل تھی اور دعائیں خدا سے کیا کرتے تھے اور جانتے تھے کہ حفاظت خدا کی طرف سے آئے گی۔پس جسم پر دعاؤں کو پھونک کر ملتا سوائے عشق اور محبت کے اظہار کے اور کچھ نہیں۔خدا کے کلام کو پڑھتے تھے۔دل اس میں ڈوب جاتا تھا۔محبت اچھلنے لگتی تھی۔بڑے پیار کے ساتھ ہاتھوں پر پھونکتے تھے۔اپنے جسم پر اس پیارے کلام کو ملتے تھے۔اس جذبے اور ولولے کے ساتھ اگر جماعت دعائیں کرے تو میں یقین دلاتا ہوں کہ انعام پانے والوں کی جس راہ کی ہم تمنا کرتے ہوئے روزانہ پانچ وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں یہ دعا کرتے ہیں کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اے ہمارے رب ہمیں صراط مستقیم پر چلا۔اس صراط مستقیم پر جس پر ہم سے پہلے وہ لوگ چلتے رہے جن کو تو نے انعاموں کے لئے چن لیا۔جن پر تو نے انعاموں کی بارشیں نازل فرمائیں۔پس یہ وہ لوگ ہیں جو یہ دعائیں کرتے ہوئے صراط مستقیم پر چلا کرتے تھے اللہ تعالٰی ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے ہم ان دعاؤں کا حق ادا کرنے والے ہوں اور ان دعاؤں کے نتیجہ میں ہم ان راہوں پر چلیں جہاں ہمیشہ اللہ کی طرف سے انعام کی بارشیں برستی رہیں۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے فرمایا۔میں نے اس جمعہ کا آغاز جمعہ کے معنی کے بیان سے کیا تھا اور میں نے آپ کو یہ خوشخبری دی تھی کہ ہم آج جماعت احمدیہ وہ جماعت ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں سورۃ جمعہ میں ملتا ہے اور آخری زمانہ کے لوگ جو پہلے زمانے کے لوگوں سے ملائے جائیں گے وہ اللہ کے فضل کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی غلامی میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سیرت پر عمل کرنے والے لوگ ہوں گے۔اس سے آپ ان پہلوں سے ملیں گے، اس کے بغیر نہیں۔لیکن یہ زمانہ اور لحاظ سے بھی جمع کا زمانہ ہے۔اتنی دور دور کے ممالک ایک جگہ مختلف رنگ میں جمع ہو جاتے ہیں کہ انسان کی عقل حیرت میں مبتلا ہوتی ہے اور خدا تعالٰی نے اس بات کا ہمیں مزید یقین دلانے کے لئے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جن کا سورۃ جمعہ سے گہرا تعلق ہے ایسی نئی ایجادات