ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 443
443 مدد مانگیں گے۔فلاں سے مدد مانگیں گے۔مسلمان ممالک کو دیکھیں جب ضرورت پڑتی ہے۔وہ کشکول اٹھاتے ہیں، کبھی امریکہ کی طرف بھاگتے ہیں کبھی روس کی طرف بھاگتے ہیں۔کبھی چین کی طرف چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا خدا ہے۔سے پس عملی دنیا میں آج وہ زمانہ ہے جبکہ ہمارے اللہ بکھر چکے ہیں اور بہت سے بن چکے ہیں اور رب بھی بہت سے اور ہو چکے ہیں تو فرمایا کہ ایک ایسا وقت آنے والا ہے جبکہ تمہارے ایمان کی جڑیں کھوکھلی کرنے والی طاقتیں پیدا ہوں گی۔وہ تمہارے دل میں وسوسے پیدا کریں گی اور تم ان وسوسوں کے نتیجہ میں نہ خدا کو اپنا رب سمجھو گے نہ اپنا بادشاہ سمجھو گے۔دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو بادشاہ سمجھنے لگ جاؤ گے اور نہ اس کو معبود سمجھو گے کیونکہ فی الحقیقت تمہارے دل میں تمہاری آرزووں کی عبادت ہو رہی ہو گی۔فرمایا۔الَّذِي يُوسول في صُدُورِ النَّاسِ۔مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (الناس : (تا) یہ وہ شر پیدا کرنے والی طاقتیں ہیں جن سے ہم پناہ مانگتے ہیں۔جو بڑے لوگوں میں سے بھی ہیں اور چھوٹے لوگوں میں بھی ہیں۔بورژوا بھی ہیں اور PROLETARIAT بھی ہیں۔CAPITALIST بھی ہیں اور سائنٹفک سوشلسٹ بھی ہیں۔انجن سے یہاں مراد بڑی بڑی طاقتیں اور عظیم الشان طاقتیں ہیں اور الناس سے مراد عوامی طاقتیں ہیں۔تو یہ دعا اس زمانہ کے اوپر ہر پہلو سے اطلاق پا رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم سونے سے پہلے ان دعاؤں کو پڑھتے تھے اور اپنے ہاتھوں پر پھو سکتے تھے اور اپنے جسم پر ملتے تھے۔اس میں کوئی SUPERSTITION نہیں ہے۔دعا تو خدا سنتا ہے۔جسم پر ملتے کیوں ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہ محبت کا اظہار ہے۔بعض دفعہ کسی پیارے کا کپڑا انسان کو مل جائے۔اسے انسان اپنے جسم پر ملتا ہے۔اپنے منہ سے لگاتا ہے۔اسے چومتا ہے۔پس میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ جسم پر ملتا اس غرض سے نہیں تھا کہ آپ سمجھتے تھے کہ اگر جسم پر مل لی گئی تو میں بلاؤں سے بچ جاؤں گا۔آپ تو محفوظ مقام پر تھے۔آپ کو