ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 423

423 طالب ہوں۔وَلا تَجْعَل في قُلُوبِنَا غِلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا اور ہمارے ولی ایسے بنا دے کہ ان میں کسی ایمان لانے والے کے لئے بھی کسی قسم کی کوئی کبھی نہ رہے۔کوئی بیہودہ خیالات پیدا نہ ہوں۔رَبِّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ اے خدا تو تو بہت ہی مہربان ہے۔میں بھی مہربان بنا دے۔تو تو بار بار رحم کرنے والا ہے۔ہمیں بھی بار بار رحم کرنے والا بنا دے۔پس مسلمان سوسائٹی کے لئے یہ دعا بہت ہی قیمتی دعا ہے۔ایسی جماعتیں جہاں بعض دفعہ اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ نفرتوں میں بدل جاتے ہیں اور وہ جماعتیں پھٹ جاتی ہیں۔خصوصیت کے ساتھ ان کے لئے یہ دعا بہت ہی اہمیت رکھتی ہے اور شیعوں اور سینیوں سے گفتگو کے دوران بھی آپ کے پیش نظر یہ دعا رہنی چاہیے اور یہی مسلک ہے جو سب سے اچھا مسلک ہے۔اس میں عاجزی اور انکسار پایا جاتا ہے اور معاملات کو خیر الفاتحین خدا کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔یہ دعا سورۃ الحشر آیت میں ہے۔ایک دعا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کی اور ان لوگوں کی دعا ہے جو آپ کے ساتھ تھے اور آپ کے اسوہ سے فیض پانے والے تھے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔وہ لوگ مشرک نہیں تھے اور ہر قسم کے شرک سے بیزار تھے اور خالصہ اللہ وقف ہو چکے تھے۔وہ خدا کے حضور یہ عرض کیا کرتے تھے۔ربنا عليك توكحلت والَيْكَ انْتِنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (الممتحنه : (۵) اے خدا ہما را تمام تر توکل مجھ پر ہے۔واليك انبنا اور ہم تیری ہی طرف جھکنے والے ہیں۔واليك المصير اور تیری ہی طرف ہر راستہ جاتا ہے۔تیری طرف جانے کے سوا ہم اور کوئی راہ نہیں پاتے- إليكَ الْمَصِيرُ ایک بہت ہی خوبصورت بیان ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اور کسی طرف جا نہیں سکتے۔لازما بالاخر وہاں پہنچتا ہے جیسے کہا جاتا ہے۔"All roads lead to Rome" یہ تو ایک فرضی محاورہ ہے۔کہاں ساری سڑکیں روم کی طرف جاتی ہیں۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ خدا کی طرف ساری سڑکیں جاتی ہیں۔مومن کی بھی اور کافر کی بھی۔