ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 422
422 سے پیش آنے والا ہے۔اس دعا کا پس منظر یہ ہے کہ انصار اور مہاجرین جو خدا کی نظر میں بہت بڑے بڑے مرتبے پا گئے۔آخری دور میں کچھ ایسے اختلافات میں ملوث ہوئے کہ جن کے نتیجہ میں مورخ کے لئے یہ سمجھنا بہت مشکل ہو گیا کہ کس نے کیا غلطی کی تھی اور کون کس حد تک حق پر تھا۔ان عبث بحثوں میں مبتلا ہو کر مسلمان دو حصوں میں بٹ گئے۔ایک وہ جو شیعان علی کہلاتے ہیں اور ایک وہ جو اہل سنت۔اور چودہ سو سال ہونے کو آئے آجتک یہ ان بحثوں سے باز نہیں آ رہے کہ کون کس سے بہتر تھا۔کس نے کیا گناہ کیا۔کس سے کیا غفلتیں سرزد ہوئیں۔مجھ سے ایک مرتبہ ایک شیعہ دوست نے سوال کیا کہ بتائیے حضرت علی درست تھے یا حضرت عائشہ درست تھیں۔میں نے کہا جس نے بتانا ہے وہ تو اس کے دربار میں حاضر ہو چکے۔میں کون ہوں بتانے والا اور آپ کون ہیں پوچھنے والے۔جس خدا نے فیصلے فرماتے ہیں اس کے دربار میں خدا کے یہ نیک بندے حاضر ہو چکے ہیں۔اپنا سب کچھ اس کو پیش کر بیٹھے ہیں۔اس لئے ان لغو بحثوں میں مبتلا نہ ہوں۔اس آیت کریمہ کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت امام باقر کے سامنے جو ایک بہت بزرگ شیعہ امام تھے۔اولین ائمہ میں سے تھے۔کسی شیعہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم کے بعض خلفاء اور صحابہ کے متعلق زبان دراز کی۔غیرت سے آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور بہت ہی جلال کے ساتھ اس آیت کی تلاوت فرمائی۔وَالَّذِينَ جَادُو مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا الْفِرْ لَنَا وَالِاخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْايْمَانِ کہ وہ لوگ جو ان بزرگوں کے بعد آنے والے ہیں وہ تو صرف یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا میں بھی بخش دے اور ان کو بھی بخش دے۔اگر ان سے کچھ غلطیاں سرور ہوئی ہیں تو ہماری التجا یہ ہے کہ ان کو معاف فرما دے اور ہم تو ہیں ہی گہنگار بندے۔ہمیں بھی ضرور معاف فرما۔یہ وہ بھائی ہیں جو ایمان میں ہم پر سبقت لے گئے تھے اور ان کے پہلے ایمان لانے کے نتیجہ میں ہم نے یہ فیض پایا ہے۔اس لئے ہمیں زیب نہیں دیتا کہ ان کے متعلق کسی قسم کا اور کوئی کلمہ کہیں۔سوائے اس کے کہ تجھ سے ان کے لئے بخشش کے