ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 420
420 طرف کا فاصلہ کم نکلے تو اسے بخشے ہوئے لوگوں میں شمار کرو اور اگر بد لوگوں کے شہروں کا فاصلہ کم نکلے تو یہ سمجھو کہ اس کی بخشش کا سامان نہیں ہوا۔تمثیل میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ فرشتے جب فاصلے ناپنے لگے تو اللہ تعالی بد شہروں کی طرف کا فاصلہ لمبا کرتا چلا گیا اور نیک شہر کی طرف زمین کو سکیڑتا رہا۔یہاں تک کہ آخری نتیجہ یہ نکلا کہ فرشتوں نے دیکھا کہ وہ شہر اس کے نزدیک تر ہے جس شہر میں یہ تو بہ کی نیت سے جا رہا تھا۔پس ہمارے خدا کا اپنے بندوں سے ایسا معاملہ ہے۔وہ غفور و رحیم ہے۔اس سے مایوسی کفر اور گناہ ہے۔پس کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہمارا قدم ہجرت میں نیکوں کی طرف ہو۔دراصل اس تمثیل کا تعلق حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی الہ و سلم کی اس مشہور حدیث سے ہے کہ انما الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ہر شخص کا عمل اس کی نیتوں کے مطابق طے پائے گا۔اگر اس کی ہجرت خدا کی طرف ہو گی تو ایسا شخص خدا سے اجر پانے والا ہو گا۔اگر اس کی ہجرت کسی عورت کی طرف یا مال کی طرف یا کسی دنیاوی غرض کی طرف ہو گی خواہ کہنے میں وہ کچھ کہتا رہے، اس کو وہی اجر ملے گا جو اس کی نیت ہے۔پس نیتوں کا بہت گہرا تعلق سچی توبہ اور آخری نجات سے ہے۔اس پہلو سے جب آپ یہ دعائیں کریں جو حضرت نوح کی دعا ئیں تھیں تو نوع کی کشتی میں بیٹھنے کا تصور بھی تو ساتھ پیدا ہونا چاہئے۔ورنہ یہ دعائیں غیر مقبول ہوں گی اور بے معنی ہو جائیں گی۔آپ دعا تو کریں گے کہ اے خدا! نوح نے جس طرح تجھے پکارا تھا ہم تجھے پکارتے ہیں۔ہم بھی مغلوب ہو گئے ہیں۔ہم بھی بے بس ہو چکے ہیں۔ہماری قوم بھی اپنے مظلموں سے ہم پر غلبہ پا چکی ہے۔ہماری نصرت فرما اور اس کے باوجود ہمارا قدم اس دور کے نوح کی بستی کی طرف اٹھنے والا نہ ہو یعنی نیک لوگوں کی طرف ہجرت کا قدم نہ ہو بلکہ بند شہروں کی طرف ہجرت کا قدم ہو تو یہ دعائیں بالکل بے کار جائیں گی۔ان کے اندر کوئی اثر اور کوئی قوت نہیں ہوگی۔پس دعاؤں کے مضمون کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان جیسا بننے کی ا