ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 417 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 417

417۔اور ہم زمین سے بھی چشمے پھوڑ دیئے۔فالتقى الماء پس یہ دونوں پانی یعنی آسمان کا پانی اور زمین کا پانی اکٹھے ہو گئے۔علی امر قد قدر ایک ایسی بات پر جس کا فیصلہ کیا جا چکا تھا۔وحَمَلْتَهُ عَل ذَاتِ الْوَاحِ وَذَسُرٍ نے اسے ایک ایسی چیز پر اٹھا لیا یعنی سیلاب میں ایک ایسی چیز کے ذریعے اسے بچایا جو بھٹیوں اور میخوں سے بنائی گئی تھی۔تجري باغيننا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔جزاء لمن كان محفر القمر : ۱۰ تا ۱۵) یہ جزاء ہے اس شخص کی جس کا انکار کیا گیا ہے۔اس دعا کا جماعت احمدیہ کے ساتھ خصوصیت سے اس لئے رشتہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے بھی نوح کے زمانے کی باتیں کی گئیں اور آپ کو اللہ تعالٰی نے الہاما ایک سے زائد مرتبہ فرمایا کہ تجھ پر بھی نوح جیسا زمانہ آئے گا اور ہم ویسے ہی تیری مدد فرمائیں گے۔چنانچہ انہی الہامات کی روشنی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے کشتی نوح لکھی۔ایک زمانہ ایسا تھا کہ جب کوئی احمدی بچہ ایسا نہیں مل سکتا تھا جس نے کشتی نوح کا مطالعہ نہ کیا ہو لیکن آج میں سمجھتا ہوں کہ ہماری بہت سی نسلیں ایسی ہیں، بہت سے ممالک میں احمدی نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے شائد نام تو سن رکھا ہو لیکن انہیں اس اہم کتاب کے مطالعہ کی توفیق نہ ملی ہو۔یہ اس لئے ضروری ہے کہ یہ کشتی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو عطا کی گئی ہے یہ پھٹوں اور مینوں سے نہیں بنائی گئی بلکہ ایک تعلیم سے بنائی گئی ہے۔پس آج کے زمانہ میں جو ہلاکتوں کا زمانہ ہے اور طرح طرح کے عذاب اندر آنے پر تیار بیٹھے ہیں۔اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کشتی نوح کے مضمون سے خوب اچھی طرح واقف ہو اور معلوم کرے کہ کس کشتی کے مہارے اس نے بچتا ہے ورنہ جو بھی اس کشتی میں سوار نہیں ہو گا اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔دو قسم کی ہلاکتیں انسان کو درپیش ہیں۔ایک روحانی ہلاکت اور ایک مادی