ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 416
416 اگر ان دعاؤں میں خاص توجہ اور انہماک سے گریہ و زاری کے ساتھ خدا تعالیٰ سے فضل مانگتی رہے تو گذشتہ تمام زمانے اس زمانے میں جمع ہو جائیں گے اور وہ سارے انعام جو اللہ تعالی نے گذشتہ تمام زبانوں میں اپنے مختلف عاجز بندوں پر نازل فرمائے ان دعاؤں کے طفیل وہ سارے انجام اس زمانے میں جماعت احمدیہ میں جمع ہو سکتے ہیں - دعاؤں کے ذکر میں حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام کی دعا سے میں آج کے مضمون کا آغاز کرتا ہوں۔یہ دعا قرآن کریم میں سورۃ القمر میں محفوظ فرمائی گئی۔دعا تو اتنی ہے فَدَعَارية الي مَعْلُوبُ فَانتَصِرُ حضرت نوح نے اپنے خدا کو پکارا اور عرض کیا کہ میں مغلوب ہو چکا ہوں اور میری مخالف قوم مجھے پر غالب آگئی ہے پس تو میری نصرت فرما۔اس دعا کا پس منظر یہ بیان فرمایا گیا ہے۔گذبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عبدنا و قالُوا مَجْنُون وارد جد کہ اس سے پہلے نوح کی قوم نے نوح کو جھٹلا دیا۔تخَذُبُوا عَبَدَنَا اس قوم نے ہمارے بندے کو جھٹلا دیا۔اس طرز بیان میں بہت ہی پیار کا اظہار ہے اور حضرت نوح سے غیر معمولی اپنائیت کا اظہار ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ نوح کو جھٹلا دیا بلکہ فرمایا تحذِّبُوا عَبَدَنَا انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا۔وَقَالُوا مَجْنُونَ وَاذْهُ جِر اور کہا یہ تو پاگل ہے۔اسے جنون کے دورے پڑتے ہیں۔دارم جد اور ہمارے خداؤں کی طرف سے پھٹکارا گیا ہے۔ہمارے خداؤں نے اس پر پھٹکار ڈالی ہے چنانچہ حضرت نوح نے اس موقعہ پر یہ عرض کیا آتي مغلوب فانتصر "اے میرے خدا میں مغلوب ہو گیا پس تو میری نصرت فرما۔اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَفَتَحْنَا ابْوَابَ السَّمَاءِ بما منهم ہم نے اس کے جواب میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جن مسلسل برسنے والا پانی نازل ہوا۔وتجرْنَا الْأَرْضَ عُيُونا اور ہم نے