ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 412
412 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عرض کرتے ہیں کہ تو تو جانتا ہے میں تیری طرف لوٹ آیا ہوں میں تو ایسی توبہ کر چکا ہوں کہ کبھی کسی نے ایسی توبہ نہیں کی ہوگی اور مجھے کچھ نہیں چاہتے میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ ہاں میں مسلمان ہوں۔پن اس کے نتیجہ میں میرے بعد میں آنے والے تعلق رکھنے والوں سے بھی احسان کا سلوک فرما اور ان کو بھی ایسے اعمال کی توفیق بخش جن کے ذریعے تو راضی ہو جائے۔پس اسی دعا پر میں آج کا خطبہ ختم کرتا ہوں۔لیکن میں آپ کو ایک دفعہ پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اس دعا کی دنیا میں ہر جگہ پر ہر دور کے انسان کو ضرورت رہی ہے لیکن جیسی آج کے دور میں اس دنیا میں اس جگہ جہاں سے میں یہ خطبہ دے رہا ہوں اس دعا کی ضرورت ہے شائد کسی اور جگہ کبھی اس دعا کی ضرورت نہ پڑی ہو۔ایسے ظالم ماحول میں آپ بس رہے ہیں جس کی فضا زہریلی ہے۔جب بچے سانس لیتے ہیں تو دو قسم کی پولوشن میں جتلا ہوتے ہیں ایک پولوشن تو بنی نوع انسان کو نظر آ رہی ہے اور اسکے خلاف ان کے دماغ روشن ہو گئے ہیں وہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں کسی طرح اس پولوشن کو کم کریں۔اس فضاء کی وہ آلودگی جو جرائم کے ذریعہ خاک کے ذروں کے ذریعہ دھوئیں کے ذریعہ زہریلی گیسوں کے ذریعہ دنیا کو نظر آتی ہے اس سے وہ بڑے سخت منتخبہ ہو چکے ہیں اور کوشش بھی کر رہے ہیں لیکن ایک آلودگی ایسی ہے جو اس سے بہت زیادہ ہلاکت کرنے والی ہے اور وہ روح کو ہلاک کرنے والی آلودگی ہے وہ اس فضا میں اتنی زیادہ ہے کہ اگر ان کو پتہ چلے کہ کس فضا میں دم لے رہے ہیں تو اس خوف سے ان کے دم نکل جائیں کہ کیا ہوا ہے جو ہم اپنی سانسوں میں لے رہے ہیں۔اس کی طرف کوئی توجہ نہیں پس جب آپ یہ دعا کیا کریں تو اس رنگ میں دعا کیا کریں کہ آپ نے بھی اس آلودگی سے بچتا ہے اور اپنے ساتھیوں کے لئے بھی دعا کیا کریں۔اللہ تعالٰی اس آلودگی سے ان کو بھی بچائے کیونکہ یہ فضا واقعی بہت گندی ہے۔میں نے بہت سے احمدی ماں باپ کو روتے دیکھا ہے وہ کہتے ہیں اس طرح ہماری بچی ہاتھ سے نکل گئی اس طرح ہمارا بچہ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔اس کے نظریات تبدیل ہو جاتے ہیں زندگی کے متعلق اس