ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 390 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 390

390 دیا کہ یہ وہ انعام یافتہ لوگ تھے۔یہ یہ کیا کرتے تھے اور اس اس طرح مجھ سے دعائیں مانگا کرتے تھے اور اس طرح قبول فرمانا تھا اور ان پر مزید انعامات کی بارش نازل فرمایا کرتا تھا۔حضرت ایوب علیہ السلام کی ایک پُر درد دعا حضرت ایوب علیہ السلام کی ایک دعا پہلے بھی گذر چکی ہے۔اب ایک اور دعا ہے جس کی ادا اس پہلی دعا سے کچھ مختلف ہے۔قرآن کریم فرمایا ہے۔وَاذْكُرْ عَبَدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّةَ انِي مَسَّنِيَ الشَّيْطانُ بِنُصْبٍ وعَذَاب (ص : ۴۲) فرمایا کہ میرے بندے ایوب کو بھی تو یاد کرو۔إذ نادى ربه جب اس نے اپنے رب کو بڑے درد سے پکارا اور یہ کہا کہ مجھے شیطان نے بہت ہی تکلیف اور عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔اس دعا کی ادا کچھ مختلف اس رنگ میں ہے کہ یہ دعا سے بڑھ کر شکایت کا رنگ رکھتی ہے۔یہ نہیں کہا کہ اس لئے تو میری مدد فرمایا یہ کر اور وہ کر بلکہ بے ساختہ درد کا اظہار ہے جیسے بسا اوقات کوئی بچہ اپنی بیماری کا بتاتا ہے کہ میرا سر درد سے پھٹا جا رہا ہے اور آگے کچھ نہیں کہتا۔تو بعض دفعہ ان مانگی دعائیں جو محض درد کا اظہار ہوتی ہیں بہت گہرا اثر رکھتی ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے معا بعد فرمایا۔از كض برجلك یہ بھی نہیں کہا کہ ہم نے دعا قبول کر لی کیونکہ دعا تو ایک بین بین سا رنگ رکھتی تھی۔شکایت تھی یا بے ساختہ درد کا اظہار تھا۔فوراً معاً مخاطب ہو کر فرماتا ہے۔تو سوار ہو۔ایک سواری پکڑ اور اپنی ایڑی سے اسے تیز بھگا۔هذَا مُخْتَصَلُ بَارِدٌ وَ شَرَابٌ (ص: ۴۳) اور دیکھو یہ جگہ کیسی اچھی پانیوں پر مشتمل جگہ ہے۔ٹھنڈی ہے اور بہت عمدہ نہانے کا پانی بھی اور پینے کا پانی بھی میسر ہے۔حضرت ایوب علیہ السلام کی ہجرت دراصل اس میں ہجرت کی طرف اشارہ تھا اور بعد کے واقعات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ایوب کو جس شیطان نے تنگ کر رکھا تھا وہ اس زمانے کا کوئی