ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 382 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 382

382 کو چھوڑ کر ہجرت کر رہا ہوں۔اس لئے مجھ سے پاک نسل جاری فرما۔یہ جو معنی ہے اس کو قرآن کریم کی دوسری بہت سے آیات تقویت دیتی ہیں اور خود ہائیل بھی اس بات کو تقویت دیتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراھیم کی اس دعا کے نتیجہ میں محض ایک بچے کی خوشخبری نہیں دی گئی بلکہ آپ کو یہ خوشخبری دی گئی کہ میں تیری نسل کو تمام دنیا میں اتنا پھیلاؤں گا کہ جس طرح آسمان کے ستارے نہیں گنے جا سکتے اور ریت کے ذرے نہیں گنے جا سکتے اس طرح تیری نسل بے شمار ہو گی۔پس معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراھیم نے اتنے کامل اخلاص کے ساتھ اپنی قوم کو اپنے آباء و اجداد کو چھوڑا تھا۔ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ دیا تھا کہ آپ سے پھر آگے ایک نیا جہان پیدا ہونا تھا۔نئی نسلیں جاری ہوئی تھیں چنانچہ دوسری جگہ قرآن کریم نے اکیلے حضرت ابراھیم علیہ الصلوۃ و السلام کو امت قرار دیا ہے۔پس وہ لوگ جو اپنے رشتے داروں کو اپنے جتھوں کو خدا کی خاطر چھوڑتے ہیں۔وہ جو اپنی برادریوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور اکیلے ہو جاتے ہیں بعض دفعہ وہ اپنے آپ پر رحم کرنے لگ جاتے ہیں اور مجھے ان پر رحم آتا ہے۔اس قدر بے وقوفی ہے کس بات پر رحم کر رہے ہو۔تم نے سنت انبیاء کو زندہ کیا ہے اگر خدا کی خاطر کیا ہے تو وہ تمہیں ایک قوم بنا دے گا اور تمہاری قوم بالکل بے معنی اور بے حقیقت ہو جائے گی۔وہ جتھے چھوٹے ہو جاتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں اور تاریخ کے صفحوں میں ملتے ہیں لیکن مستقبل میں پاک لوگوں کی نسلیں جاری رہتی ہیں۔یہ سنت انبیاء ہے لیکن سب سے زیادہ شان کے ساتھ یہ سنت حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کے حق میں پوری ہوئی۔پس رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّلِحِنین کی دعا ایک بہت شاندار پس منظر رکھتی ہے اور ایک بہت عظیم الشان مستقبل رکھتی ہے۔ان معنوں میں اپنی اولاد کے لئے دعا کرنی چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو بھی ابراهیم فرمایا گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ساتھ آگ ہی کے معاملہ میں نہیں بلکہ برادری کے قطع تعلقی کے معالمہ میں بھی خدا نے ایسا ہی سلوک فرمایا۔چنانچہ جب ساری برادری نے آپ کو چھوڑ دیا تو اس وقت آپ کو