ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 362 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 362

362 رہے ہیں اور سارے ہوں بڑے بڑے بزرگ، نیک بد چھوٹے بڑے سب اکٹھے ہوئے ہوئے تھے اور سارے ان کے ساتھ آئین کہتے تھے اس دعا میں شامل تھے کہ اے خدا تو اس گھر کو عام کر دے۔اس کے فیض کو عام کردے۔سارے بنی نوع انسان جو بھی یہاں حاضر ہوں وہ تیری رحمتوں کا فیض پائیں اور واپس جاکر اپنی اپنی قوموں میں اعلان کریں کہ ہم نے ایک ایسے خدا کے گھر کا پتہ پایا ہے جس کا فیض ساری دنیا پر عام ہے۔جو تمام جہانوں کا رب ہے۔جو سب سے زیادہ طاقت ور ہے تو یہ حضرت سلیمان کی پیاری باتیں تھیں جو یہودی علماء کو تکلیف دیتی تھیں۔وہ متعصب علماء جنہوں نے خدا کو اپنے گھر کی ملکیت بنا لیا تھا وہ سمجھتے تھے کہ نیکی سوائے اسرائیل کے باہر ہو ہی نہیں باہر ہوہی نہیں سکتی وہ کس طرح حضرت سلیمان کو برداشت کرتے۔پھر حضرت سلیمان کی ایک اور چیز جو یہود کو تکلیف دیتی تھی وہ بھی انصاف کا ایک اور پہلو ہے۔حضرت سلیمان نے بہت عظیم الشان تعمیرات کرائیں۔آپ کو علم ہے کہ آپ کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ آپ کو خدا نے ہواؤں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشی اور سفر جو آپ سے پہلے ایک مہینے کی مشقت سے کیا جاتا تھا وہ صبح اور شام میں طے ہو جایا کرتا تھا تو حضرت سلیمان کو اللہ تعالٰی نے بہت علم عطا کیا، بہت ہی عظیم الشان ایجادات کی توفیق بخشی اور بہت سی اصلاحات کی توفیق بخشی۔اس ضمن میں قوم کی تعمیر کا جو پروگرام تھا اس میں آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ ساری آبادی جو بالغ مرد ہیں جن میں کام کرنے کی طاقت ہے وہ بلا امتیاز اپنے وقت کا تیسرا حصہ الہی کاموں میں یا قومی کاموں پر خرچ کرے گویا کہ ایک قسم کا قومی وقف کا اعلان تھا اور تیسرا حصہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جو روایت یا رسم ہمارے ہاں چلی آتی ہے کہ تیسرے حصے سے زیادہ خدا کو نہیں دینا یعنی خدا خود پسند نہیں فرماتا کہ تم اپنے بال بچوں کا حق مار لو بلکہ یہ اجازت دیتا ہے کہ تیسرے حصے تک اپنے مال کو خدا کی راہ میں قربان کرو تو یہ رسم کوئی نئی نہیں بہت پرانی چلی آرہی ہے۔حضرت سلیمان کو بھی اللہ تعالی نے یہ حکمت کی بات سمجھائی کہ اس طرح خدمتیں لو کہ جن لوگوں کو خدمت پر مقرر کرو ان کے وقت کے تین حصوں میں سے دو حصے ان کے ہوں گے اور ایک حصہ قوم کا ہو گا۔حضرت سلیمان سے