ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 359
359 قرآن کریم کا احسان ہے کہ اس نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو ایسے پاک باز خدا ترس بزرگ انسانوں کے طور پر پیش کیا ہے جن کو خدا نے اپنی اعلیٰ ترین نعمت عطا فرمائی۔ورنہ بائیل کی رو سے اور یہود کے قصوں کی رو سے تو حضرت سلیمان ایک نہایت ہی خوف ناک قسم کے بد کردار انسان نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ بنتے ہیں۔اس سلسلہ میں یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ عیسائی عام طور پر قرآن کریم پر جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے تو بائیل کی نقل اتاری ہے۔وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و سلم کو یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی، جو پرانی بائیبل کی باتیں ہیں وہ آپ نے یہودیوں اور عیسائیوں سے سنی ہیں اور انہی قصوں کو قرآن کریم میں لے لیا ہے۔اگر یہ بات درست ہوتی تو قرآن کریم میں حضرت داود اور حضرت سلیمان کا ذکر نبی کے طور پر نہ ملتا۔اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کا ذکر اتنے پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ نہ ملتا۔ایسے مقدس اور بزرگ انسانوں کے طور پر نہ ملتا۔بلکہ بائیبل کی نقل ماری ہوتی تو قرآن کریم ان کے ذکر سے بھی گھن کرتا اور کہا دیکھو نعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ کیسے گندے لوگ تھے۔پس قرآن کریم نے حضرت سلیمان کو جو ہمارے سامنے پیش کیا ہے تو ایک بہت ہی عظیم الشان اور بزرگ نبی کے طور پر پیش کیا ہے جو احسان مند اور ہر لمحہ خدا کا شکریہ ادا کرنے والا تھا۔اور بنی نوع انسان کو ان نعمتوں سے حصہ دینے والا تھا جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی تھیں۔اس کے مقابل پر آپ جب بائیل پر غور کرتے ہیں اور بائیبل کے جو محققین ہیں ان کی رائے دیکھتے ہیں تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ کس طرح بعض قومیں ظالم ہو کر اپنے پاک انبیاء پر کیسے کیسے بہتان تراشنے لگتی ہیں۔ایک یہودی تاریخ کا مصنف حضرت سلیمان کے متعلق لکھتا ہے کہ یہود حضرت سلیمان کی بادشاہت سے سخت بے زار تھے کیونکہ وہ نہایت گندے کردار کے انسان تھے نہ صرف گندے کردار کے بلکہ مشرک تھے اور خدا کے ساتھ اپنے کئے ہوئے عہد کو توڑ بیٹھے تھے اور غیر قوموں کی عورتوں کو بیاہ کر کے لاتے تھے اور پھر ان کے معبودوں کی پرستش کرنے لگ