ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 347 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 347

347 سلیمان علیہ السلام) نے یہ دعا کی کہ اے خدا مجھے توفیق عطا فرما آن اشكر نعمتك التي أنعمت علي وعلى والا دعا میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی وآن اعْمَلَ صَالِحًا اور میں نیک اعمال بجالاؤں ترضُهُ جن سے تو راضی ہو وَادْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَاركَ الضلعين (النمل : ۲۰) اور مجھے اپنی رحمت کے ساتھ اپنے صالح بندوں کے گروہ میں داخل فرمالے۔حضرت سلیمان کی یہ دعا اس موقع پر بیان ہوئی ہے جب وہ اپنے لشکر سمیت وادی نملہ میں داخل ہوئے اور عام طور پر لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک چیونٹی تھی جس نے حضرت سلیمان کو دیکھ کر اپنی باقی چیونٹی بہنوں کو متنبہ کیا کہ یہ ایک بہت بڑا جابر بادشاہ آگیا ہے اور بہت بڑی فوج لے کر آیا ہے۔اگر اس سے بچتا ہے تو بھاگ کر اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ ورنہ اس لشکر کے پاؤں تلے تم روندی جاؤ گی۔یہ بات حضرت سلیمان نے جن کو علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ ظاہری طور پر منطق الطیر عطا ہوئی تھی یعنی پرندوں کی بولی ظاہر میں بھی عطا ہوئی تھی اور دنیا کے ہر قسم کے پرندوں کی زبان وہ سمجھتے تھے مگر سوال یہ ہے کہ یہ تو چیونٹی تھی "منطق الطیر میں چیونٹی بیچاری کہاں سے داخل ہو گئی۔اس لئے "نمل" سے مراد چیونٹی لینا درست نہیں ہے۔"نملہ" ہے اصل میں جو ایک قوم کا نام تھا۔اور حضرت سلیمان جب لشکر کشی کر رہے تھے تو ایک ایسی قوم پر سے گزرے جس قوم کے ایک فرد نے اپنی قوم کو متنبہ کیا کہ اپنی اپنی پناہ گاہوں میں چھپ جاؤ اور غائب ہو جاؤ۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہاڑی علاقہ تھا یا ایسی جگہیں تھیں جہاں غاروں میں چھپا جا سکتا تھا۔چنانچہ بجائے اس کے کہ وہ قوم ایک لشکر کے سامنے آتی اور اس کے نتیجے میں اس کو خطرات درپیش ہوتے تو مشورہ دینے والے نے یہ مشورہ دیا۔حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھا دی کہ اس طرح یہ تجھ سے خوف کھا رہے ہیں اس پر انہوں نے عرض کی رت آذار غریق أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَي وعلى والدي وان أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ کہ اے خدا میں دنیا کے بادشاہوں جیسا تو بادشاہ نہیں ہوں تو نے مجھ پر ایک عظیم الشان نعمت کی اور میرے والدین پر بھی ویسی ہی نعمت فرمائی۔مجھے توفیق عطا فرما کہ میں نیک اعمال کروں ایسے