ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 346

346 ہے کہ پیارا تھا اور کون ناپاک اور کون تیری نظر میں مغضوب تھا۔اور نشان کیا ہو اس طرح کا وہ یہ وَنَحْنِي وَمَن مَّنِي مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مجھے اور وہ لوگ جو مجھ پر ایمان لائے ہیں ان سب کو اس ہلاکت سے بچالے جو اس قوم کا مقدر ہو چکی ہے۔فَأَنجَيْنَهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونَ (الشعراء : ۱۳۰) اور ہم نے اسے اور جو کچھ اسکے ساتھ تھے۔ایک بھری ہوئی کشتی میں نجات دی۔اس سے پہلے ایک بھری ہوئی کشتی کا ذکر گزر چکا ہے جس میں سوائے خدا کے ایک نبی کے ساری قوم کیلئے جگہ تھی وہ اس بھری کشتی میں نہ صرف یہ کہ خود نجات نہیں پاسکا بلکہ وہ باقی قوم کے لئے بھی خطرہ بن گیا کہ اگر یہ ہوا تو کشتی ڈوبے گی۔اگر یہ نکلے گا تو کشتی بچے گی۔تو وقتی طور پر جب خدا کی رحمت کا سایہ آزمائش کے لئے بھی اٹھتا ہے تو کتنا ہولناک منظر پیدا ہو جاتا ہے۔یہاں اب بالکل بر عکس منتظر ہے۔فرمایا۔جاشوق سے جتنے مومن ہیں وہ بھی کشتی میں بھر لے اور ہر قسم کے ضرورت کے جانوروں کے نمونے بھی بھر لے۔ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ بھری ہوئی کشتی میں تمہیں ان طوفان خیز موجوں سے نجات بخشیں گے۔اور فرمایا کہ ہم نے ایسا ہی کیا ثُمَّ اغرقنا بعد البقين (الشعراء : ۱۳۱) پس اس کے بعد ہم نے باقی سبکو فرق فرما دیا ان في ذلك لآيَةً ، وَمَا كَانَ اكْثَرُهُمْ مُؤْمِنينَ (الشعراء : ۱۲۲) اس میں ایک بہت بڑا نشان ہے لیکن افسوس کہ اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔صاحب اختیار اور اقتدار لوگوں کی دعا حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک دعا ہے جس کے ساتھ ایک گہرا مضمون وابستہ ہے۔لیکن وہ میں بعد میں بیان کروں گا۔اب وقت نہیں ہے پہلی دعا جو ہے اس کا مختصر ذکر میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔(بعد میں جو ایک ایسی دعا ہے جس کے ساتھ قرآن کریم کی صداقت کا ایک نشان وابستہ ہے اس کا ذکر بعد میں تفصیل کے ساتھ کروں گا۔اس دعا کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے لیکن دو تین دعائیں اکٹھی ہیں جن کا انشاء اللہ آئندہ جمعہ میں ذکر کیا جائے گا) حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کی رت آواز عرفني أن أشكر يعمتك التي أنعمت علي انہوں (حضرت