ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 335

335 سے بھی زیادہ گہرے معنی یہ ہیں کہ اس کو کیا خبر تھی کہ جو بیٹی پیدا کر رہی ہے وہ بیٹوں سے بہت افضل ہوگی۔وہ تو ظاہر کو دیکھ رہی ہے لیکن میں نے اس کی آزمائش بھی کرلی اور اس کی دعا کو اعلیٰ رنگ میں قبول کیا ہے۔پس خدا کے لطائف میں کوئی انسانی لطائف کا رنگ نہیں ہوتا کہ جس کے نتیجہ میں دوسرے کو تکلیف پہنچے اور بھونڈا مذاق ہو۔خدا کے مذاق میں بھی ایک نعمت چھپی ہوئی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قبولیت کے بہت ہی لطیف رنگ ہیں۔کس رنگ میں وہ قبول کرتا ہے۔بظا ہر دعا کے نقائص کی طرف انسان کو متوجہ بھی کر دیتا ہے اور پھر پردہ پوشی بھی فرما دیتا ہے۔بہر حال فرمایا وَلَيْسَ الشَّعر الانف مرد جو بھی ہو وہ اس عورت جیسا نہیں ہو سکتا۔اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ عام بچوں کی کیا بات ہے۔عام لڑکوں کا کیا ذکر وہ اس لڑکی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔یہ ایک بہت ہی عظیم الشان لڑکی ہے۔دوسرا فرمایا۔ليس الأحد الان اس انٹی جیسا اپنی نوعیت کے لحاظ سے کوئی لڑکا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اس کے اندر وہ صفات بھی رکھ دی گئی ہیں جن کے نتیجہ میں عورت مرد کی محتاج ہوتی ہے اور بچہ پیدا کرتی ہے اور پیدائش کی صفات بھی رکھ دی گئی ہیں۔یہ اکیلی کافی ہے۔اس کو کسی مرد کی ضرورت نہیں۔تو اس لحاظ سے عورتوں میں تو افضل تھی ہی مردوں پر بھی سبقت لے گئی۔پس قرآن کریم کی دعاؤں پر جب آپ غور کیا کریں تو اس کے پس منظر کو غور سے پڑھا کریں۔بعد میں آنے والے مضمون کو غور سے دیکھا کریں تو آپ کی دعاؤں میں بھی وسعت پیدا ہوگی۔آپ کی دعاؤں میں گہرائی پیدا ہوگی۔الفاظ وہی ہونگے لیکن ان کے معافی پھیلتے چلے جائیں گے اور ایک دفعہ کا مضمون کافی نہیں ہوگا بلکہ جتنا آپ غور کریں گے یہ میرا تجربہ ہے اللہ تعالٰی کے فضل سے آپ کو اور مضامین انہی دعاؤں میں ملتے چلے جائیں گے۔چنانچہ فرمایا۔فتقبلها رَبُّهَا بِقَبُول حَسَنٍ وَالبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا حسین پس اس کے رب نے اس بچی کو قبول فرمالیا۔بِقَبُول حَسَنٍ بہت ہی قبولیت تھی والتيا نباتا حمنا اور اس کی پرورش کی اور اس کو بڑھایا بہت ہی خوبصورت اور حسین رنگ میں۔پس واقفین نو پیش کرنے والوں کے لئے یہ