ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 334

334 گئی۔یہ بتایا گیا کہ حقیقی آزادی وقف میں ہے جو خالصتہ ”خدا کی خاطر ہوا کرتا ہے۔اور جو خدا کا غلام ہو جائے وہ ہر غیر اللہ کی غلامی سے نجات پا جاتا ہے۔اور یہ وہ تجربہ ہے جو حقیقی واقفین کو ہمیشہ ہوتا رہتا ہے اور جو وقف کی روح کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے ایک اللہ کی غلامی قبول کر کے ہزار غلامیوں سے نجات پالی ہے۔پس یہ بھی ایک رنگ سمجھانے کا ہے۔اس دعا کو سمجھ کر اس کے مطابق اپنے واقف بچوں کی تربیت کرنی چاہئیے اور اس رنگ میں جب تربیت کریں گے تو کوئی شخص اپنی وقف زندگی کو بوجھ محسوس نہیں کرے گا۔اس میں کسی پابندی پر تلخی محسوس نہیں کرے گا بلکہ حقیقی آزادی یہی سمجھے گا کہ خدا کے سوا ہر دوسری چیز سے ہر دوسری قید سے وہ آزاد ہو چکا ہے۔اِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ اے خدا! تو بہت ہی سننے والا اور بہت ہی جاننے والا ہے۔اب دیکھیں کتنی پر حکمت دعا ہے۔کتنی گہری دعا ہے اور ایک عورت کو سمجھائی گئی جو نبی نہیں تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی قدر فرمائی کہ قرآن کریم میں اس دعا کو ہمیشہ کے لئے محفوظ فرما دیا اور واقفین کیلئے اس دعا کو ایک ماڈل ننا کر پیش کیا۔پس وقف نو کے سب بچے اسی دعا کی حکمت کا فیض ہیں جو میرے دل میں ڈالی گئی اور اس کے نتیجہ میں یہ وقف نو کی تحریک ہوئی۔خدا تعالیٰ کا لطیف مذاق فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُها انثى کہہ تو یہ بیٹھی تھیں کہ جو کچھ ہے تیرے حضور ہے اور دماغ میں یہ تھا کہ لڑکا ہوگا۔یہ بھی خدا کے عجیب رنگ نہیں۔قرآن کریم میں جب آپ یہ دعائیں پڑھتے ہیں اور انکی قبولیت کا حال دیکھتے ہیں تو بہت ہی لطیف مذاق خدا کی طرف سے چلتا ہے۔ایک بہت ہی گہرا رابطہ ہے دعا میں اور قبولیت میں۔اللہ تعالٰی نے کہا اچھا، جب تو نے یہ کہا کہ جو کچھ ہے تو پھر میری مرضی جو کچھ پیدا کروں۔ضروری نہیں کہ بیٹا ہی ہو۔چنانچہ جب بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے آت التي وضعتها انثى۔میری تو بیٹی پیدا ہو گئی۔واللهُ أَعْلَمُ ہما وضعت حالا نکہ خدا زیادہ جانتا ہے کہ اس نے کیا پیدا کیا تھا۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کو بتا رہی تھی کہ بیٹی ہے حالانکہ وہ جانتا ہے۔یہ تو عام سادہ معنی ہیں۔لیکن اس