ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 333

333 وقف کا کوئی نظام ہی نہ ہو گویا یہ نعمت صرف مردوں ہی کے لئے رہ گئی ہے۔پس اس آیت سے مجھے یہ روشنی ملی کہ اگر مائیں یہ عہد کریں کہ میرے پیٹ میں جو کچھ ہے اے خدا میں تیرے حضور پیش کرتی ہوں پھر جو لڑکی ہوگی وہ بھی وقف ہوگی اور بعض دفعہ ایسی وقف لڑکی، لڑکوں سے بہت بہتر اور مقدر والی ثابت ہوتی ہے جیسا کہ حضرت مریم کے معالمہ میں ہوا جو آل عمران کی اس دعا کے نتیجہ میں پیدا ہوئیں۔ا قالت امرات عمر را نذرتُ لكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلُ مني إنك انت السَّمِيعُ الْعَلِيمُ اے میرے خدا جو کچھ میرے پیٹ میں ہے میں نے تیرے حضور پیش کر دیا۔مُحددا آزاد کرتے ہوئے۔یہاں لفظ محددا بہت قابل غور ہے اور جو یہ دعا کرتے ہیں انکو اس کا مضمون پیش نظر رکھنا چاہیئے۔جب ہم زندگی وقف کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آزادی سے قید کی طرف جا رہے ہیں۔اپنی ساری آزادیاں کھو دیں اور ہمیشہ کے لئے وقف کی زنجیروں میں باندھے گئے اور بہت سے واقفین بچے ہیں جنکو ان کے والدین یہی بتاتے ہیں کہ دیکھو سوچ سمجھ کر وقف کرو۔عمر بھر کی قید ہے۔تمہارا اپنا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔اپنی مرضی قربان ہو جائے گی۔کوئی اپنا وطن نہیں رہے گا۔جماعت جہاں چاہے گی تمہیں اٹھا کر بھیج دے گی اور پھر جتنی دیر چاہے گی وہاں رکھے گی۔جس حال میں چاہے گی وہاں رکھے گی۔تو بہت ہی مشکل زندگی ہوگی۔یعنی دنیا کے لحاظ سے معمولی گزا را تو اور بات ہے لیکن اپنی مرضی کی ایسی قربانی کہ اپنی مرضی اپنی نہ رہے یہ ایک بہت زیر دست قربانی ہے۔حقیقی آزادی وقف میں ہے اس کے برعکس قرآن کریم وقف زندگی کو ایک بالکل اور رنگ میں پیش فرماتا ہے۔فرماتا ہے اس صاحب حکمت عورت نے یہ دعا کی اے خدا جو کچھ میرے پیٹ میں ہے میں تیرے حضور پیش کر کے اس کو آزاد کرتی ہوں۔آزاد کس سے؟ دنیا کے سمجھنٹوں سے شیطان کی غلامی سے۔ہر اس چیز سے جو غیر اللہ ہے یا غیر اللہ کی طرف سے آتی ہے اس سے میں اسے آزاد کرتی ہوں۔یعنی آزادی کی ایک نئی تعریف فرما دی